موسمی تبدیلیاں اور وبائی امراض و قحط کا خطرہ
2050 میں 150 ملین افراد کو غذائی پروٹین کی کمی کا خطرہ لندن: اسامہ نعمان کل ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے قحط اور وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ ترقی پذیر ممالک میں خاص طور سے لاحق ہو رہا ہے۔ امریکن ہارورڈ یونیورسٹی کے محقیقین نے موسمی […]
2050 میں 150 ملین افراد کو غذائی پروٹین کی کمی کا خطرہ

لندن: اسامہ نعمان
کل ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے قحط اور وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ ترقی پذیر ممالک میں خاص طور سے لاحق ہو رہا ہے۔
امریکن ہارورڈ یونیورسٹی کے محقیقین نے موسمی تبدیلیوں اور قحط کے مابین ربط پر تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ کے اثرات گلوبل وارمنگ پر پڑتے ہیں جس سے اناج میں پروٹین کا تناسب متاثر ہوتا ہے۔
اس پر ریسرچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ غذائی پروٹین کے تناسب میں کمی بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ اور قبل از وقت موت کا باعث بن سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 150 ملین افراد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ کے نتیجے میں سال 2050 تک پروٹین کی کمی کے خطرے سے دوچار ہونگے۔