60 ہزار مسلح عناصر پر مبنی ایرانی ملیشیائیں – اور ان کا مرکز دمشق
دمشق: "الشرق الاوسط” ایران کی نگرانی میں شام میں علاقائی و غیر ملکی ملیشیا جماعتوں کی تعداد 50 سے زائد ہے جبکہ ان میں مسلح عناصر کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے جو ایرانی فوجی ماہرین کی قیادت میں تہران کی پالیسیوں کی تنفیذ کے لئے کام کر رہے ہیں۔ مئی […]

دمشق: "الشرق الاوسط”
ایران کی نگرانی میں شام میں علاقائی و غیر ملکی ملیشیا جماعتوں کی تعداد 50 سے زائد ہے جبکہ ان میں مسلح عناصر کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے جو ایرانی فوجی ماہرین کی قیادت میں تہران کی پالیسیوں کی تنفیذ کے لئے کام کر رہے ہیں۔
مئی 2011 سے شروع ہونے والے شام کے بحران کے بعد ان ملیشیاؤں میں سب سے پہلے قاسم سلیمانی کی قیادت میں "قدس برگیڈ” نے اس میں شمولیت اختیار کی؛ جو کہ ایرانی "پاسداران انقلاب” اور "حزب اللہ” لبنانی کے ماتحت ہے۔ اس کے علاوہ دمشق کے جنوبی مضافات میں سیدہ زینب کے علاقے میں مقیم بعض عراقی بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد شام میں ایرانی حکم عملی کے باب کا آغاز ہوگیا، جیسا کہ گذشتہ صدی کی 80 کی دہائی میں لبنان میں اور 2003 کی جنگ کے بعد عراق میں ہوا۔