کردستان کے ریفرنڈم کے خلاف ترک ایران تشویش میں اضافہ

انقرہ کا "جنگ” سے انتباہ اور تہران امریکی منصوبہ قرار دے رہا ہے   انقرہ: سعيد عبد الرازق، اربيل – تہران: "الشرق الاوسط” آئندہ ستمبر میں عراقی صوبہ کردستان کی خودمختاری اور علیحدگی پر اس کے حکام کی طرف سے کرائے جانے والے ریفرنڈم پر کل ترکی اور ایران کے لہجے میں

کردستان کے ریفرنڈم کے خلاف ترک ایران تشویش میں اضافہ
انقرہ کا "جنگ” سے انتباہ اور تہران امریکی منصوبہ قرار دے رہا ہے

انقرہ: سعيد عبد الرازق،  اربيل – تہران: "الشرق الاوسط”

آئندہ ستمبر میں عراقی صوبہ کردستان کی خودمختاری اور علیحدگی پر اس کے حکام کی طرف سے کرائے جانے والے ریفرنڈم پر کل ترکی اور ایران کے لہجے میں مزید سختی آگئی ہے۔ دریں اثناء انقرہ نے اس اقدام کو عراق میں خانہ جنگی سمیت خطے کے امن کو خراب کرنے سے تعبیر کیا ہے، جبکہ تہران نے اسے "خطے کی تقسیم کے بارے میں امریکی پالیسیوں کے تناظر میں” امریکی منصوبہ قرار دیا ہے جس پر کردوں کے ذریعے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب صوبہ کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ایک بار پھر اپنی اور کردستانی رہنماؤں کی طرف سے باور کرایا ہے کہ علیحدگی کے لئے ریفرنڈم اپنے معینہ وقت پر ہی ہوگا۔ علاوہ ازیں انہوں نے اس بارے میں بغداد سے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

جمعہ – 3 ذی الحجة 1438 ہجری – 25 اگست 2017ء شمارہ: [14150]