لبنانی فوجیوں کی باقیات کی وصولی کے ساتھ "فجر الجرود” اختتام پذیر
"داعش” اسد کی حکومت اور "حزب اللہ” کے ساتھ اتفاق کے بعد دیر الزور کے لئے پرامن راستے کی ضمانت حاصل کر رہی ہے بيروت: كارولين عاكوم لبنانی فوج نے "داعش” کے خلاف "فجر الجرود” نامی کاروائی "حزب اللہ” اور انتہا پسند تنظیم کے درمیان اپنی نوعیت ک
"داعش” اسد کی حکومت اور "حزب اللہ” کے ساتھ اتفاق کے بعد دیر الزور کے لئے پرامن راستے کی ضمانت حاصل کر رہی ہے

بيروت: كارولين عاكوم
لبنانی فوج نے "داعش” کے خلاف "فجر الجرود” نامی کاروائی "حزب اللہ” اور انتہا پسند تنظیم کے درمیان اپنی نوعیت کے پہلے معاہدے کے نتیجے کے طور پر ختم کر دی ہے، جسے شامی حکومت نے بھی پسند کیا ہے۔ اس معاہدے کی دستاویز کے مطابق 3 سال قبل اغوا کئے گئے لبنانی فوجیوں کی باقیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے بعد تنظیم کے جنگجوؤں کو شام میں دیر الزور کی طرف پر امن راستہ فراہم کیا جائے گا۔
لبنانی جنرل سیکورٹی کے ڈائریکٹر میجر جنرل عباس ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ فوج سے تعلق رکھنے والے 6 اشخاص کی باقیات ملی ہیں، جن کے جان بحق ہونے کے بارے میں لبنانی حکومت کو فروری 2015 سے معلومات تھیں، لیکن ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ علاوہ ازیں بعد میں مزید دو لاشیں اور ملی ہیں جبکہ 9 فوجیوں کے بارے میں ابھی کوئی معلومات نہیں ہے۔ دریں اثناء "حزب اللہ” نے اپنے جنگجوؤں کی 5 لاشیں وصول کی ہیں۔