امریکہ اور روس کے درمیان شامی جزیرہ اور دیر الروز کی تقسیم
لندن: ابراہیم حمیدی ایک بڑے مغربی ذمہ دار نے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سمجھوتے ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر شام کی ڈیموکریٹ عرب فورسز نے نہر فرات کے مشرقی علاقے سے تنظیم داعش کو بھگانے کے […]

لندن: ابراہیم حمیدی
ایک بڑے مغربی ذمہ دار نے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سمجھوتے ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر شام کی ڈیموکریٹ عرب فورسز نے نہر فرات کے مشرقی علاقے سے تنظیم داعش کو بھگانے کے لئے امریکہ کی مدد سے "عاصفۃ الجزیرہ” نامی جنگ کا آغاز کیا ہے جبکہ شامی فورسز نے ماسکو کی مدد سے دیر الروز کے شہر کو داعش سے آزاد کرانے کے لئے اقدام کیا ہے۔
ذمہ دار نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ واشنگٹن مغربی فرات کے دیر الروز علاقہ میں شامی فورسز کے تیز اقدام کی وجہ سے حیران ہو گیا اور اسی وجہ سے مشرقی کنارہ کو آزاد کرانے کی جنگ کے آغاز میں جلدی کی گئی، شام کی ڈیموکریٹک فورسز کے تقریبا دس ہزار افرار کے لئے فوجی تعاون اور ان کے لئے انٹیلیجنس کا ادارہ فراہم کیا گیا اور داعش کے اڈہ الرقہ کو آزاد کرانے کا انتظار نہیں کیا گیا۔
اتوار – 19 ذی الحجہ 1438 ہجری مطابق 10 ستمبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14166)