کردی میمورنڈم کے ملتوی ہونے میں کوئی حیرت نہیں
بغداد: "الشرق الاوسط” ایک امریکی فوجی ذمہ دار نے نیک شگونی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے کردیوں کی طرف سے آزادی کے میمورنڈم کو ملتوی کئے جانے کو قبول کرنے کا احتمال ہے۔ کل تنظیم داعش کے خلاف اتحاد میں امریکہ کے خاص ایلچی بریٹ مکغورک نے […]

بغداد: "الشرق الاوسط”
ایک امریکی فوجی ذمہ دار نے نیک شگونی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے کردیوں کی طرف سے آزادی کے میمورنڈم کو ملتوی کئے جانے کو قبول کرنے کا احتمال ہے۔ کل تنظیم داعش کے خلاف اتحاد میں امریکہ کے خاص ایلچی بریٹ مکغورک نے کہا کہ وہ مطمئن ہیں کہ عراقی کردستان صوبہ کے رہنماء میمورنڈم کے ملتوی کئے جانے کے سلسلہ میں ان کی طرف سے پیش کردہ تجویز کو قبول کریں گے۔
مکغورک نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ 25 ستمبر کو ہونے والے میمورنڈم کے لئے ایک قدم بڑھانے کی وجہ سے فوجی کاروائی ہو سکتی ہے جس سے علاقہ کو زبردست نقصان پہنچے گا کیونکہ اس موجودہ وقت میں اسے بین الاقوامی تعاون بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم علاقہ کے سیاسی رہنماؤں کو پرزور انداز میں کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کے سلسلہ میں ہمت افزائی کرتے ہیں جس میں گفت وشنید اور سنجیدہ گفتگو کا موقعہ ہو تاکہ اس کے ذریعہ بغداد کی مرکزی حکومت اور صوبہ کی حکومت کے پیچیدہ مسائل حل کئے جا سکیں۔
جمعہ – 24 ذی الحجة 1438 ہجری – 15 ستمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14170(