مالیاتی فنڈ کا ویژن 2030 کے دائرہ میں سعودی عرب کے اصلاحی اقدامات کی تعریف

واشنگٹن: ہبہ القدسی – ریاض: شجاع البقمی سعودی عرب میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ مشن کے سربراہ ٹائموتھی گالین نے سعودی حکومت کی طرف سے 2030 ویزن کے دائرہ میں کی جانے والی مالی پالیسی کی ترتیب، اخراجات میں کمی، کاروباری ماحول کی بہتری اور شفافیت کے معیار میں اضافہ کرنے […]

مالیاتی فنڈ کا ویژن 2030 کے دائرہ میں سعودی عرب کے اصلاحی اقدامات کی تعریف

واشنگٹن: ہبہ القدسی – ریاض: شجاع البقمی

سعودی عرب میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ مشن کے سربراہ ٹائموتھی گالین نے سعودی حکومت کی طرف سے 2030 ویزن کے دائرہ میں کی جانے والی مالی پالیسی کی ترتیب، اخراجات میں کمی، کاروباری ماحول کی بہتری اور شفافیت کے معیار میں اضافہ کرنے جیسے اصلاحی اقدامات کی تعریف کی ہے اور اسی طرح انہوں نے عورت کے گاڑی چلانے کی اجازت کے فیصلہ کی بھی تعریف کی ہے اور اشارہ کیا ہے کہ یہ روزگاری کی فروغ، پیداوار کے میدان اور لیبر مارکیٹ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کے سلسلہ میں بہت ہی عمدہ اقدام ہے۔(…)

ٹائموتھی گالین اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں مالیاتی شعبے کے ماہر مصطفی سید میں سے ہر ایک نے کہا کہ سعودی حکومت ان اصلاحات پر اعتماد کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جن کی وجہ سے بڑے پیمانہ پر مالیاتی خسارہ میں کمی آئی ہے یعنی سنہ 2016ء میں جی ڈی پی 17 فیصد تھی اور اب سنہ 2017ء میں گھٹ کر  9.3 فیصد پر آ پہنچی ہے اور انہوں نے آئندہ سال کے شروع سے سعودی حکومت کی طرف سے وی اے ٹی لاگو کرنے کے فیصلہ کے سلسلہ میں بھی بہت زیادہ امید کا اظہار کیا ہے۔

جمعہ – 16 محرم الحرام  1439 ہجری – 6  اکتوبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14192)