صومالی دارالحکومت کی تاریخ میں سب سے بڑے بم دھماکے کے خونی مناظر
قاہرہ: خالد محمود صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں "مقامی ایمبولینس سروس امان” کے بانی اور ڈائریکٹر عبدالقادر عبدالرحمن نے "الشرق الاوسط” سے کو بتایا کہ "میرے لئے اور شاید پوری دنیا کے لئے یہ پہلی بار ہے کہ ایک دہشت گردانہ کارروائی میں 300 سے زائد افراد ہلاک

قاہرہ: خالد محمود
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں "مقامی ایمبولینس سروس امان” کے بانی اور ڈائریکٹر عبدالقادر عبدالرحمن نے "الشرق الاوسط” سے کو بتایا کہ "میرے لئے اور شاید پوری دنیا کے لئے یہ پہلی بار ہے کہ ایک دہشت گردانہ کارروائی میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے ہیں ۔۔۔”، وہ ابھی تک اپنی دس ایمبولینس اور 35 طبی و انتظامی عملے کے ساتھ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گردانہ حملے میں زخمی اور متاثرہ افراد کی امداد کر رہے ہیں۔ (۔۔۔)
عبد القادر نہیں جانتے کہ اس خون ریزی کا ذمہ دار کون ہے، جس نے گذشتہ ہفتے کے روز پورے موغادیشو کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کی عمارتوں، ہوٹلوں، حکومتی دفاتر اور گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔ جبکہ صومالیہ کے اس بد ترین حملے میں 300 سے زائد اشخاص ہلاک اور دیگر کم سے کم 400 زخمی ہوگئے ہیں۔