"الشرق الاوسط” کی طرف سے کاتالونیہ کے پرسکون ہونے پر حیرانگی
بارسلونا: نجلاء حبريري ہسپانوی حکومت کی جانب سے کاتالونیہ پر براہ راست حکمرانی کے نفاذ کے دوسرے روز ہی بارسلونا شہر پرسکون نظر آنے لگا ہے، اور یہ اس حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کہ یہ وہی اس صوبے کا دارالحکومت ہے جہاں شدید دھندلے بحران کا سامنا ہے۔ سرکاری ملازمین نے […]

بارسلونا: نجلاء حبريري
ہسپانوی حکومت کی جانب سے کاتالونیہ پر براہ راست حکمرانی کے نفاذ کے دوسرے روز ہی بارسلونا شہر پرسکون نظر آنے لگا ہے، اور یہ اس حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کہ یہ وہی اس صوبے کا دارالحکومت ہے جہاں شدید دھندلے بحران کا سامنا ہے۔
سرکاری ملازمین نے علیحدگی پسند یونین کی طرف سے ہڑتال کی کالوں کا جواب نہیں دیا اور ہسپانوی عدلیہ کی جانب سے (54 سالہ) صوبائی صدر کارلس پوچیمون کے خلاف مقدمہ چلانے کے فیصلہ کے بعد "سیکورٹی وجوہات” کی بنا پر ان کے بروکسل جاتے ہی علیحدگی کے لئے مظاہرے بند ہوگئے۔
تاہم، شاہراہوں کے عارضی طور پر پرسکون ہو جانے سے سیاسی بحران میں کمی نہیں آئی جو کہ کاتالونین افراد میں علیحدگی کے قضیے میں اختلاف رائے کی بنا پر پایا جاتا ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور خافییر ڈی سانتوس نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کس کی حمایت کی جائے”۔ (۔۔۔)