واشنگٹن "داعش” کے خاتمے کے بعد "جنیوا مذاکرات” کی حمایت کر رہا ہے
شہریوں کا رقہ کی جانب واپسی کا آغاز – اور حکومت کی طرف سے دیر الزور علاقے کے رہائشیوں کو انتباہ لندن: "الشرق الاوسط” امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کل بیان دیا ہے کہ وہ شام کے مشرق میں متشدد تنظیم داعش کی شکست کے قریب ہونے پر جنیوا مذاکرات کو دوبارہ […]
شہریوں کا رقہ کی جانب واپسی کا آغاز – اور حکومت کی طرف سے دیر الزور علاقے کے رہائشیوں کو انتباہ

لندن: "الشرق الاوسط”
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کل بیان دیا ہے کہ وہ شام کے مشرق میں متشدد تنظیم داعش کی شکست کے قریب ہونے پر جنیوا مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ (۔۔۔)
تاہم، شام کے شہر رقہ کے ایک محلے کو بارودی سرنگوں سے پاک کئے جانے کے بعد سینکڑوں شہری واپس لوٹ آئے ہیں۔ "شامی ڈیموکریٹک فورسز” کے مطابق تنظیم داعش کی جانب سے نکالے گئے رہائشیوں کا یہ پہلا گروپ ہے جو واپس لوٹا ہے۔
دریں اثنا دیر الزور کی سول کونسل میں ایک مخالف ذمہ دار نے کہا ہے کہ شامی حکومتی افواج نے کل شام کی ہلال احمر کے گاڑیوں میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے ہوئے "دیر الزور کے شمال مغرب میں حویجہ کاطع میں موجود لوگوں کو حتمی انتباہ کیا کہ وہ چند گھنٹوں کے اندر اندر اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیں ورنہ ان پر حملہ کر دیا جائے گا”۔