لبنان سے خلیج کا باہر نکلنا اور سلامتی کا خدشہ
سعودی عرب کی طرف سے معاملات کا معمول کے مطابق ہونے کے سلسلہ میں کاروائیاں تیز کرنے کا وعدہ بیروت: "الشرق الاوسط” لبنان کے سلسلہ میں خلیجی کاروائیوں میں شدت اس وقت زیادہ ہو گئی جب لبنانی حکومت کے صدر سعد الحریری نے اپنی حکومت کے اندر ایران اور حزب اللہ […]
سعودی عرب کی طرف سے معاملات کا معمول کے مطابق ہونے کے سلسلہ میں کاروائیاں تیز کرنے کا وعدہ

بیروت: "الشرق الاوسط”
لبنان کے سلسلہ میں خلیجی کاروائیوں میں شدت اس وقت زیادہ ہو گئی جب لبنانی حکومت کے صدر سعد الحریری نے اپنی حکومت کے اندر ایران اور حزب اللہ کی مداخلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے دیا۔
سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات بحرین کے ساتھ اس وقت شامل ہوئے ہیں جب ان کی عوام نے لبنان کے صدر کے استعفی دے دینے کے بعد پیش آمدہ صورتحال کی وجہ سے لبنان کو چھوڑ دینے کی درخواست کی ہے کیونکہ ایک لبنانی بڑے ذمہ دار نے ملک کی داخلی امن وسلامتی کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔(۔۔۔)
سعودی عرب کی وزارت خارجہ میں عرب خلیج معاملات کے وزیر ثامر السہبان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ یہ ساری کاروائیاں معاملات کو معمول کے مطابق لانے کے لئے کی گئیں ہیں۔(۔۔۔)
جمعہ – 21 صفر 1439 ہجری – 10 نومبر 2017ء شمارہ: (14227)