ایران کی طرف سے زلزلہ کے بعد ریسکیو آپریشنز موقوف اور بچنے والے پریشان

لندن: "الشرق الاوسط” کل میڈیا کے سرکاری ذرائع نے کہا کہ ایرانی ذمہ داروں نے ریسکیو آپریشن کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا ہے کہ مزید بچنے والوں کو حاصل کرنے کا وقت نہیں ہے اور کل ایرانی صدر حسن روحانی نے سخت زلزلہ کے سے دوچار گورنریٹ کی دار الحکومت […]

ایران  کی طرف سے زلزلہ کے بعد ریسکیو آپریشنز موقوف اور بچنے والے پریشان

لندن: "الشرق الاوسط”

کل میڈیا کے سرکاری ذرائع نے کہا کہ ایرانی ذمہ داروں نے ریسکیو آپریشن کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا ہے کہ مزید بچنے والوں کو حاصل کرنے کا وقت نہیں ہے اور کل ایرانی صدر حسن روحانی نے سخت زلزلہ کے سے دوچار گورنریٹ کی دار الحکومت کرمانشاہ پہنچنے کے وقت اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا وعدہ کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ حکومت بہت جلد ممکنہ وقت میں اپنی پوری طاقت خرچ کر دیگی اور یہ حکومت اس حادثہ کے شکار لوگوں کے ساتھ ہے۔

ایران کی سرکاری نتائج نے بتایا ہے کہ اتوار کے دن عراق کی سرحد پر واقع کرمانشاہ گورنریٹ میں زبرزست زلزلہ آیا اور ایران کے مغربی علاقہ سے لے کر تہران تک کے شہریوں نے اس زلزلہ کو محسوس کیا اور اس زلزلہ میں 530 افراد ہلاک اور 7370 افراد زخمی ہوئے ہیں۔(۔۔۔)

ایرانی ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ نقصان شدہ علاقوں میں اب صورتحال قابو میں ہے لیکن ایرانی میڈیا نے لوگوں کی گفتگو کو ریکارڈ کیا ہے جس میں لوگ کھلے میدان میں ٹھنڈک، طبی سہولتیں اور کھانے پینے کی چیزیں نہ ملنے کی شکایت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

بدھ – 26 صفر 1439 ہجری – 15 نومبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14232)