واشنگٹن شام میں اپنی افواج کی موجودگی کو "جنیوا” کی کامیابی سے منسلک کر رہا ہے
ماسکو ایرانی ملیشیاؤں کے انخلا کو "امن کی بحالی” سے منسلک کر رہا ہے ماسکو: طہ عبد الواحد – لندن: "الشرق الاوسط” کل روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کے شام اور عراق سے انخلا
ماسکو ایرانی ملیشیاؤں کے انخلا کو "امن کی بحالی” سے منسلک کر رہا ہے

ماسکو: طہ عبد الواحد – لندن: "الشرق الاوسط”
کل روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کے شام اور عراق سے انخلا کو شام میں قیام امن کی خاطر جنیوا مذاکرات میں پیش قدمی کے حصول سے مربوط کرنے پر تنقید کی ہے۔
میٹس نے صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا: "فوری طور پر ہم ہرگز انخلا نہیں کریں گے”۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی اتحادی افواج "جنیوا عمل میں پیش قدمی” کی منتظر رہے گی۔ (۔۔۔)
دریں اثناء ماسکو نے ایرانی ملیشیاؤں کو جنوبی شام سے دور رکھنے کے معاہدے سے انکار کیا ہے۔ شام کے لئے روسی صدر کے ایلچی الیگذینڈر لافرینتیف نے کہا: "اگر امن و سکون مستحکم ہو تب ہم ایران کے ماتحت یونٹوں کے انخلا پر بات کر سکتے ہیں”۔