شام کے حل کے آغاز کے لئے علاقائی و بین الاقوامی چھتری

مخالف جماعتوں کا ریاض میں اپنے وژن، قیادت اور وفد کا تعین – سوچی سربراہی اجلاس میں اختلافات کو نظر انداز – "رعایتوں” پر کی حوصلہ افزائی   رياض: فتح الرحمن يوسف – ماسکو: طہ عبد الواحد سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل جبیر نے کل ریاض میں شام کی مخالف جماعتوں کی وسیع […]

شام کے حل کے آغاز کے لئے علاقائی و بین الاقوامی چھتری
مخالف جماعتوں کا ریاض میں اپنے وژن، قیادت اور وفد کا تعین – سوچی سربراہی اجلاس میں اختلافات کو نظر انداز – "رعایتوں” پر کی حوصلہ افزائی

رياض: فتح الرحمن يوسف – ماسکو: طہ عبد الواحد

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل جبیر نے کل ریاض میں شام کی مخالف جماعتوں کی وسیع پیمانے کی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر یقین دہانی کی کہ سعودی عرب "جینوا 1″ اور قرارداد 2254” کی بنیاد پر بحران کے حل کے لئے شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسی طرح انہوں نے شمامی مخالف جماعتوں میں ہم آہنگی پر زور دیا۔ (۔۔۔)

کانفرنس کا آغاز تقریبا 150 شخصیات کی شرکت سے ہوا، جس میں سیاسی وژن کے تعین اور جینوا مذاکراتی وفد کی تشکیل کے علاوہ تمام دھڑوں کی شمولیت کے ساتھ ایک نئی اپوزیشن قیادت کا قیام متوقع ہے۔

دریں اثنا روس کے شہر سوچی میں شامی مخالف جماعتیں سہ ممالک کے رہنماؤں؛ جن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن، ترک صدر رجب طیب اردگان اور ایرانی صدر حسن روحانی شامل ہیں، ان کے ساتھ اجلاس کا افتتاح کیا۔ سربراہی اجلاس کے اختتام پر پوٹن نے "شامی حکومت” سمیت تمام فریقوں کی جانب سے "رعایتیں” دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ (۔۔۔) جبکہ تینوں سربراہان نے اختلافی مسائل کو نظر انداز کیا جیسے کردوں کی اس کانفرنس میں شرکت کرنا۔

یہ سہ سربراہی اجلاس، روسی صدر کے نمائندے الیگزینڈر لافرنییف، مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی شرکت، اور اس کے ساتھ "جنیوا اعلامیہ” اور "قرارداد 2254” کی روشنی میں ریاض کانفرنس شامی بحران کے حل کے آغاز کے لئے علاقائی و بین الاقوامی چھتری کا کام ہے۔

جمعرات – 5 ربيع الأول 1439 ہجری – 23 نومبر 2017ء  شمارہ: [14240]