شامی حکومت کی "پیشگی شرائط” سے "جنیوا مذاکرات” کو خطرہ
انقرہ کا "عفرین کاروائی” کا آغاز – واشنگٹن کردوں کو ہتھیار کی فراہمی منقطع کر رہا ہے نیویارک: جوردن دقامسہ – ماسکو: طہ عبد الواحد – انقرہ: سعيد عبد الرازق آج جنیوا میں شروع ہونے والے شام کے بحران کے حل کے بارے میں مذاکراتی سیشن میں حکومتی وفد کی شرکت کے حوالے [&he
انقرہ کا "عفرین کاروائی” کا آغاز – واشنگٹن کردوں کو ہتھیار کی فراہمی منقطع کر رہا ہے

نیویارک: جوردن دقامسہ – ماسکو: طہ عبد الواحد – انقرہ: سعيد عبد الرازق
آج جنیوا میں شروع ہونے والے شام کے بحران کے حل کے بارے میں مذاکراتی سیشن میں حکومتی وفد کی شرکت کے حوالے سے کل بے یقینی کی کیفیت پائی گئی۔ جبکہ شام کے بین الاقوامی نمائندے سٹیفن ڈی مستورا نے (کل تک) بیان دیا کہ شامی حکومتی وفد کی شرکت غیر یقینی ہے۔ (۔۔۔)
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے حکومتی وفد نے ریاض میں شامی حزب مخالف کانفرس کے انعقاد پر اعتراض کیا ہے، جو کہ جنیوا میں "پیشگی شرائط کے بغیر” تمام مسائل پر بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد کا تاخیر سے پہنچنا جنیوا کاروائی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اسی ضمن میں، امریکی وزارت دفاع نے کل بیان دیا ہے کہ وہ شام میں کردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق "ترامیم” کا جائزہ لے رہے ہیں۔ لیکن وزارت نے ابھی تک ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے کا اعلان نہیں کیا اور نشاندہی کی ہے کہ اس قسم کے فیصلے جنگی ضروریات پر مبنی ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ کا یہ بیان اسی وقت دیا گیا ہے کہ جب انقرہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل یا پروسوں حلب کے شمال میں کردوں پر کنٹرول کی خاطر عفرین خاضعہ کاروائی کرنے لئے تیار ہے۔ (۔۔۔)