یمن: تحقیق وتفتیش کرنے کے لیے سعودی عرب میں اقوام متحدہ کی ٹیم
اقوام متحدہ کا پرزور بیان کہ حوثیوں کے میزائل ایران کے تیار کردہ تھے لندن: بدر القحطانی نیو یارک میں ان دنوں اقوام متحدہ کے ٹیموں کے ساتھ سعودی ترتیبات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ ٹیم تحقیق وتفتیش کرنے کے لیے یمن کے اندر قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد […]
اقوام متحدہ کا پرزور بیان کہ حوثیوں کے میزائل ایران کے تیار کردہ تھے

لندن: بدر القحطانی
نیو یارک میں ان دنوں اقوام متحدہ کے ٹیموں کے ساتھ سعودی ترتیبات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ ٹیم تحقیق وتفتیش کرنے کے لیے یمن کے اندر قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض کی طرف روانہ ہو سکے اور اس کا مقصد یمن کی طرف جانے الے اسلحہ کی وک تھام کرنا ہے اور یہ اقدام اتحاد کے مطالبہ اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گوٹیرس کی طرف سے کیے گیے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
نیویارک کے اندر اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے دائمی سفیر عبد اللہ المعلمی نے کل "الشرق الاوسط” کے ساتھ فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف روانہ ہونے والی ٹیم کی تعیین ہو چکی ہے اور اس کے لیے اوقات بھی منظم کر دیے گیے ہیں۔(۔۔۔)
روئٹر نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ میں پابندیوں کی نگرانی کرنے والوں کی طرف سے تیار کردہ ایک رازدارانہ رپورٹ کی معلومات کے نشر کرنے کی صبح سعودی عرب کے ایک ذمہ دار کا بیان آیا ہے جس میں انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ اس سال حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر چھوڑے گیے چاروں میزائل کے باقی ماندہ اجزاء ان میزائلوں کے نقشوں سے ملتے ہیں جنہیں ایران بناتا ہے۔
ہفتہ – 14 ربيع الأول 1439 ہجری – 02 دسمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14249)