صنعا کی گلیوں میں جنگ اور نظام زندگی مفلوج
اقوام متحدہ کی طرف سے امدادی کارکنوں کو نکالنے کی کوشش، اور متحدہ عرب امارات کا حوثیوں کی طرف سے "کروز” سے نشانہ بنائے جانے کا انکار دبئی: مساعد الزيانی – رياض: عبد الہادی حبتور – صنعاء: "الشرق الاوسط” یمنی دارالحکومت صنعا میں سابق صدر علی عبد اللہ صالح
اقوام متحدہ کی طرف سے امدادی کارکنوں کو نکالنے کی کوشش، اور متحدہ عرب امارات کا حوثیوں کی طرف سے "کروز” سے نشانہ بنائے جانے کا انکار

دبئی: مساعد الزيانی – رياض: عبد الہادی حبتور – صنعاء: "الشرق الاوسط”
یمنی دارالحکومت صنعا میں سابق صدر علی عبد اللہ صالح کی افواج اور حوثی ملیشیاؤں کے مابین گلیوں میں جاری جنگ اشباح شہر تک پہنچ چکی ہے، جس سے اسکول اوریونیورسٹیاں، اکثر کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں اور خاص طور پر دارالحکومت کے جنوب اور وسطی علاقوں میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ (۔۔۔)
"رویٹرز” ایجنسی نے اقوام متحدہ کے ذمہ داران سے نقل کیا ہے کہ بین الاقوامی تنظیم صنعا میں امدادی کام کرنے والے کم سے کم 140 افراد کے انخلا کی کوشش کر رہی ہے۔
دریں اثناء، کل متحدہ عرب امارات نے یمن میں حوثی ملیشیا کے ساتھ منسلک میڈیا ذرائع کی طرف سے جاری اس خبر کی تردید کی ہے جس میں "براکہ” ایٹمی ریکٹر کی جانب "کروز میزائل” داغے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ امارات نے یقین دہانی کی ہے کہ اس کے پاس کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت موجود ہے۔