بیت المقدس کو اسرائیل کی دار الحکومت

ٹرمپ کا وعدہ: امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں

عباس نے اس فیصلہ کو "امن وسلامتی معاہدہ سے نکلنا” قرار دیا ۔۔۔ خادم حرمین شریفین ۔۔۔ غصہ اور ناراضگی پر مشتمل عرب اور بین الاقوامی رد عمل واشنگٹن: هبة القدسي رام الله: كفاح زبون تل أبيب: "الشرق الاوسط” امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی انتخامی مہم کے دوران کیے [&he

ٹرمپ کا وعدہ: امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں
عباس نے اس فیصلہ کو "امن وسلامتی معاہدہ سے نکلنا” قرار دیا ۔۔۔ خادم حرمین شریفین ۔۔۔ غصہ اور ناراضگی پر مشتمل  عرب اور بین الاقوامی رد عمل

واشنگٹن: هبة القدسي رام الله: كفاح زبون تل أبيب: "الشرق الاوسط”

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی انتخامی مہم کے دوران کیے گیے وعدہ کو پورا کر دکھایا اور کل سرکاری طور پر بیت المقدس کو اسرائیل کی دار الحکومت ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ تل ابیب سے بیت المقدس کی طرف امریکی سفارت خانہ کو منتقل کیے جانے کا فیصلہ بھی پرزور انداز میں کیا ہے اور امریکی وزارت خارجہ کو اس کام کے انجام دینے کا ذمہ دار بنایا ہے پھر اس کے بعد سفارت خانہ کے منتقل ہونے اور بیت المقدس کو اسرائیل کی دار الحکومت قرار دینے کے فیصلہ پردستخط کیا ہے۔

اس فیصلہ کے خلاف عرب بلکہ پوری دنیا میں غصہ اور ناراضگی پر مشتمل رد فعل کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے پرزور انداز میں کہا کہ یہ فیصلہ بیت المقدس کی حقیقت کو نہیں بدل سکتا ہے کہ وہ ایک فلسطینی عرب، اسلامی اور عیسائی شہر ہے اور ہمیشہ کے لیے فلسطینی حکومت کی دار الحکومت ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کے اس اعلان کا مطلب یہ ہوا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اس کردار سے نکل گیا جو وہ امن وسلامتی معاہدہ کی کاروائی کے سلسلہ میں ادا کر رہا تھا۔(۔۔۔)

کل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز کے پاس ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی طرف سے فون آیا جس کے ذریعہ دونوں فریقین نے اس معاملہ اور اس سلسلہ میں کی جانے والی کوشش کا جائزہ لیا ہے۔(۔۔۔)

جمعرات – 19 ربيع الأول 1439 ہجری – 07 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14254)