حوثیوں کی طرف سے بیحان میں لڑنے کے لئے بھیجے گئے ذمار کے بچے گرفتار
تعز: "الشرق الاوسط” یمنی فوج نے اپنی ویب سائٹ کے پیج پر بچوں کے اعتراف کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: حوثیوں نے انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کیا ہے اور ان میں سے بعض کو انہیں بتائے بغیر جنگی محاذ پر بھیجا ہے۔ یمن کی قانونی حکومت کی اتحادی افواج […]

تعز: "الشرق الاوسط”
یمنی فوج نے اپنی ویب سائٹ کے پیج پر بچوں کے اعتراف کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: حوثیوں نے انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کیا ہے اور ان میں سے بعض کو انہیں بتائے بغیر جنگی محاذ پر بھیجا ہے۔
یمن کی قانونی حکومت کی اتحادی افواج کی طرف سے حراست میں لئے گئے ان بچوں کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان ہیں۔ (۔۔۔)
ملیشیا کی صفوں میں موجود فوجی بچوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں ملیشیاؤں کے نگرانوں کے ذریعے انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ان کی فوج میں بھرتی ہوں۔ (۔۔۔)