ماسکو کا اسد کی قبولیت کے ساتھ سوچی میں شرکت کرنے کا اعلان

اس کی طرف سے کانفرنس میں "آئین کمیٹی” تشکیل کرنے کا اعلان اور جنگ میں 400 ارب ڈالر کی قیمت کے اخراجات کا اندازہ ماسكو: طه عبد الواحد شامی کی طرف روسی صدر کے سفیر الکسندر لافرینٹیف نے آئندہ ماہ کے اخیر میں سوچی میں منعقد ہونے والے شامی قومی گفتگو […]

ماسکو کا اسد کی قبولیت کے ساتھ سوچی میں شرکت کرنے کا اعلان
اس کی طرف سے کانفرنس میں "آئین کمیٹی” تشکیل کرنے کا اعلان اور جنگ میں 400 ارب ڈالر کی قیمت کے اخراجات کا اندازہ

ماسكو: طه عبد الواحد

شامی کی طرف روسی صدر کے سفیر الکسندر لافرینٹیف نے آئندہ ماہ کے اخیر میں سوچی میں منعقد ہونے والے شامی قومی گفتگو کانفرنس میں حاضر ہونے کے لیے صدر بشار الاسد کے حکومت چھوڑنے کے شرط کو ختم کرنے کی شرط شام کی مخالف جماعتوں پر لگائی ہے۔(۔۔۔)

اسی سلسلہ میں روس کے وزیر خارجہ میخائل بوگدانوو نے کانفرنس کے دوران ایک دستوری کمیٹی تشکیل دینے کو ترجیح دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کمیٹی کو عوام کے حوالہ کر دیا جائے کیونکہ 1500 سے 1700 کی تعداد مکمل شامی عوام کی نمائندگی کرے گی اور یہ کانفرس میں شرکت کریں گے اور یہی لوگ ہر مسائل میں قانون کے اصل ہوں گے اور اس میں دستور کی صلاحیتوں کو آزاد رکھنے اور دستور بنانے کا بھی مسئلہ شامل ہے۔

دوسری طرف لافرینٹیف نے اعلان کیا ہے کہ شام کو دوبارہ آباد کرنے میں بہت سے مال اور چند ممالک کو شرکت کرنے کی ضرورت ہوگی اور انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے شام کے اقتصادی نقصانات بہت زیادہ ہیں اور میرا کہنا ہے کہ 400 ارب ڈالر مطلوبہ حقیقی رقم سے کم ہے۔

اتوار– 05 ربيع الثانی 1439 ہجری – 24 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14270)