متبادل انسانی اعضاء کو پرنٹ کرنے کے لئے "بایو سیاہی”
لندن: "الشرق الاوسط” اوساکا یونیورسٹی کے جاپانی محققین نے "بایو سیاہی” سے ایسے قطرے بنانے کے ایک طریقہ کو ترقی دی ہے جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے انتہائی پیچیدہ مختلف قسم کے زندہ خلیات کے رنگ برنگ انسانی حصوں اور […]

لندن: "الشرق الاوسط”
اوساکا یونیورسٹی کے جاپانی محققین نے "بایو سیاہی” سے ایسے قطرے بنانے کے ایک طریقہ کو ترقی دی ہے جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے انتہائی پیچیدہ مختلف قسم کے زندہ خلیات کے رنگ برنگ انسانی حصوں اور اعضاء کو جسمانی شکل وصورت میں پرنٹ کیا جا سکتا ہے، سائنس دانوں نے کہا کہ یہ نیا طریقہ نئے طبی شعبوں میں متبادل اعضاء بنانے کے رجحانات کی مدد کرے گآ،
جسمانی شکل وصورت سے متعلق اس جیسے بایو سیاہی تیار کرنے کے سلسلہ میں دشواریاں رہیں گی کیونکہ دستیاب سیاہی مخصوص خلیات کے سلسلہ میں اپنا کام انجام دے گا اور اس کے علاوہ کسی اور میں کام نہیں کرے گا اور محققین نے ایک مخصوص اینجیم کی بنیاد پر سیاہی کی ایک نیا مجموعہ تیار کیا ہے۔(۔۔۔)
جمعرات – 10 ربيع الثانی 1439 ہجری – 28 دسمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14275)