ماسکو کا "سوچی کانفرنس” کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے سے خبردار
دمشق کے قریب حزب اختلاف کے انخلا کا آغاز، اور ادلب میں "موصل ثانی” بننے کا خوف ماسکو: طہ عبد الواحد – بیروت: بولا اسطیح کل روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے آئندہ ماہ کے آواخر میں سوچی کانفرنس کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے ماسکو میں شامی […]
دمشق کے قریب حزب اختلاف کے انخلا کا آغاز، اور ادلب میں "موصل ثانی” بننے کا خوف

ماسکو: طہ عبد الواحد – بیروت: بولا اسطیح
کل روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے آئندہ ماہ کے آواخر میں سوچی کانفرنس کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے ماسکو میں شامی گروپ "الغد السوری” کے سربراہ احمد الجریا کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران کہا کہ جنوری 2018 کے آخر میں شامی ڈائیلاگ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد شامیوں کی شرائط سے اتفاق کرتے ہوئے وسیع تر آئینی اصلاحات کے آغاز کی خاطر راہ ہموار کرنا ہے۔ (۔۔۔)
دوسری جانب، مخالف مسلح جماعتوں کا حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے، مخالف جماعتیں مغربی غوطہ کے علاقے سے انخلا کر کے گورنریٹ ادلب اور درعا واپس جانے کے لئے مکمل تیار ہیں۔ جبکہ خبروں کے مطابق "نصرت فرنٹ” کے عناصر اہل علاقہ اور "آزاد فوج” کے خوف سے ادلب کی جانب جانے کے لئے نئی تیاری کر رہے ہیں جو اسے "موصل ثانی” بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جو کہ ان کی ممکنہ تباہی کی جانب ایک اشارہ ہے جسے عراقی شہر (موصل) میں "داعش” کا گھیراؤ کر کے تباہ کیا تھا۔ میدانی ذریعہ کے مطابق مخالف جاعتوں کے تقریبا 300 عناصر نے جنوب مغربی دمشق کے علاقے تل مروان اور مغر المیر کے دیہات میں اپنے ٹھکانے چھوڑ کر ادلب کی جانب نقل مکانی کی ابتدا میں بیت جن کی جانب پلے گئے ہیں۔