یزیدیوں پر شمالی عراق میں قتل عام کا الزام
بغداد: "الشرق الاوسط” کل عراقی یزیدی فرقے پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے (شمالی عراق) کے گورنریٹ نینوی میں 52 سنی عرب عراقی شہریوں کو قتل کیا ہے۔ دریں اثنا گورنر عبد الرحمن اللویزی کے نائب نے سنی فرقہ کے افراد کے قتل عام کی تصدیق کرتے ہوئے اس جرم […]

بغداد: "الشرق الاوسط”
کل عراقی یزیدی فرقے پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے (شمالی عراق) کے گورنریٹ نینوی میں 52 سنی عرب عراقی شہریوں کو قتل کیا ہے۔ دریں اثنا گورنر عبد الرحمن اللویزی کے نائب نے سنی فرقہ کے افراد کے قتل عام کی تصدیق کرتے ہوئے اس جرم کے مرتکب افراد کے محاسبے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ "عوامی فورس” کے ایک یزیدی رہنما نے گمان ظاہر کیا ہے کہ قتل کی یہ کاروائی "تنظیم داعش کے عناصر کی طرف سے کی گئی ہے”۔
انسانی حقوق کی تنظیم "ہومن رائیٹس واچ” نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متاثرین کے اہل خانہ نے انہیں بتایا کہ گذشتہ جون میں یزیدی افواج نے "موصل کے مغربی علاقے میں عوامی فورسز اور داعش کے مابین ہونے والے جنگ کے باعث فرار ہونے والے 8 خاندانوں کو زبردستی حراست میں لے کر ان کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو پھانسی دے دی تھی”۔ (۔۔۔)