ایران میں وسیع پیمانے پر مظاہرے اور سرکاری خاموشی کا خاتمہ

تہران اور بڑے شہروں میں مظاہرے اور حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان الزامات کا تبادلہ لندن: عادل السالمي کل ایران میں بنیادی چیزوں کی قیمت میں زیادتی، معاشی صورتحال کی بدتری، حکومت کے کردار اور علاقائی انتظامیہ کے رویہ کی وجہ سے مظاہرے کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے […]

ایران میں وسیع پیمانے پر مظاہرے اور سرکاری خاموشی کا خاتمہ
  • تہران اور بڑے شہروں میں مظاہرے اور حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان الزامات کا تبادلہ
  • لندن: عادل السالمي
  • کل ایران میں بنیادی چیزوں کی قیمت میں زیادتی، معاشی صورتحال کی بدتری، حکومت کے کردار اور علاقائی انتظامیہ کے رویہ کی وجہ سے مظاہرے کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور اب یہ مظاہرے تہران اور بڑے شہروں تک پہنچ گیے ہیں اور سرکاری خاموشی بھی اس طور پر ٹوٹ چکی ہے کہ انتظامیہ کے دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
  • مک کے مغرب میں واقع کرمانشاہ کے علاقہ میں پولس فورسز نے مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ چھڑپ کرنے سے پہلے آنسو گیس چھوڑنے اور قدرے تشدد کا طریقہ اختیار کیا ہے۔(۔۔۔)
  • سرکاری ذرائع ابلاغ نے ذمہ داروں کی زبانی ان تنبیہات کو نشر کرنے پر اکتفاء کیا ہے جن میں مظاہرہ میں شرکت کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔
  • پاسداران انقلاب کے ذرائع ابلاغ نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہونے کا اقرار کیا ہے لیکن اس نے اس کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی ہے اور اس کی معاشی صورتحال پر تنقید بھی کی ہے۔
  • ہفتہ – 12 ربيع الثانی 1439 ہجری – 30 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14277)