عراق میں بدعنوانی اور جعلی معاہدے کی وجہ سے 228 بلین ڈالر ضائع
بغداد: "الشرق الاوسط” عراق میں ایگزیکٹو، عدلیہ، قانون سازی اور سالمیت کمیشن میں سے ہر ایک اس بدعنوان کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے میدان میں گیند پھینک رہے جسے وزیر اعظم حیدر العبادی نے "داعش” کی جنگ کے بعد اگلی جنگ قرار دیا ہے۔ پارلیمان […]

بغداد: "الشرق الاوسط”
عراق میں ایگزیکٹو، عدلیہ، قانون سازی اور سالمیت کمیشن میں سے ہر ایک اس بدعنوان کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے میدان میں گیند پھینک رہے جسے وزیر اعظم حیدر العبادی نے "داعش” کی جنگ کے بعد اگلی جنگ قرار دیا ہے۔
پارلیمان میں سالمیت کمیشن کے رکن ایم پی رحیم درراجی نے کہا کہ ابھی پانچ ہزار سے زائد تصوراتی معاہدے ہیں اور فرانسیسی پریس ایجنسی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچوں میں جو مال ضائع ہوئے ہیں وہ صرف کاغذ پر ہیں اور ان کی مقدار 228 بلین ڈالر ہے۔(۔۔۔)
ایک سرکاری ذریعہ کا کہنا ہے کہ حکومت مغرب ادارے اور اقوام متحدہ کے مشن سے اسمگلنگ آپریشن اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے کے لیے مدد لے رہی ہے۔(۔۔۔)
ہفتہ – 12 ربيع الثانی 1439 ہجری – 30 دسمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14277)