نئے داعش کو روکنے کے لئے امریکی اقدامات

پوتین کی ترجیحات کی وجہ سے شام میں واشنگٹن کے ساتھ مقابلہ کرنے کی تمہید واشنگٹن: هبة القدسي ماسكو: طہ عبد الواحد داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی صدر کے خاص سفیر بریٹ ماکگورک نے پرزور انداز میں کہا کہ واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد مغربی عراق اور […]

نئے داعش کو روکنے کے لئے امریکی اقدامات
پوتین کی ترجیحات کی وجہ سے شام میں واشنگٹن کے ساتھ مقابلہ کرنے کی تمہید

واشنگٹن: هبة القدسي ماسكو: طہ عبد الواحد

داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی صدر کے خاص سفیر بریٹ ماکگورک نے پرزور انداز میں کہا کہ واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد مغربی عراق اور مشرقی شام کے سلسلہ میں ایسی کاوائیاں کرے گا کہ داعش کا کوئی نیا گروپ ظاہر نہ ہو سکے گا۔

ماکگورک نے بین الاقوامی اتحاد میں  ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شرکاء کی طرف بھیجے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ تنظیم کو ختم کرنے کے کیے آئندہ سال کے چوتھائی مدت میں کاروائیاں کی جائیں گی۔(۔۔۔) اور ریاستہائے متحدہ امریکہ شام میں اس وقت تک رہے گا جب تک یہ تاکید نہ ہو جائے کہ داعش کا خاتمہ ہو چکا ہے اور دوبارہ نہیں واپس ہوگا۔

اسی کے مقابلہ میں روسی صدر فلادیمئر پوٹن نے شام میں روس کی تین ترجیحات کی تعیین اس خط میں کی ہے جسے انہوں نے نئے سال کی مبارکبادی کے موقعہ پر شامی انتظامیہ کے صدر بشار الاسد کو بھیجی ہے اور کرملین کے مطابق اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ روس ملک کی حفاظت اور شامی زمین کی وحدت اور سیاسی مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں شام کی ہر طرح کی مدد کرے گا اور اسی طرح قومی معیشت کو دوبارہ بنانے کے لیے بامقصد کوشش کرے گا اور امید یہ ہے کہ پوٹن کی گفتگو امریکہ کے ساتھ گفتگو کرنے کے سلسلہ میں ہے۔

اتوار – 13 ربيع الثانی 1439 ہجری – 31 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14278)