اردوگان کا واشنگٹن کو منبج اور مشرقی شام میں چیلنج

دمشق کے غوطہ میں مکمل طور پر فائر بندی اور سوچی میں مخالف جماعتوں کے موقف کا انتظار لندن – ویانا – ماسکو: "الشرق الاوسط” ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھنے والی بار بار کی آواز کو پس پشت ڈال کر شمالی شام میں وسیع […]

اردوگان کا واشنگٹن کو منبج اور مشرقی شام میں چیلنج
دمشق کے غوطہ میں مکمل طور پر فائر بندی اور سوچی میں مخالف جماعتوں کے موقف کا انتظار

لندن – ویانا – ماسکو: "الشرق الاوسط”

ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھنے والی بار بار کی آواز کو پس پشت ڈال کر شمالی شام میں وسیع پیمانہ پر ترکی کی فوجی مداخلت کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے ذریعہ خاص طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کو چیلنج بھی کیا ہے۔

خاص طور پر ریاستہائے متحدہ کی بے چینی میں اضافہ کر دینے والی زیتون کی شاخ نامی اس کاروائی کے ساتویں دن اردوگان نے اپنے عزم وارادہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ اس منبج شہر تک اپنی فورسز کو بھیجیں گے جہاں امریکی فورسز کا مرکز ہے اور اس کے بعد مشرقی نہر فرات ہوتے ہوئے عراقی سرحدوں تک وہ اپنی فورسز بھیجیں گے۔(۔۔۔)

اسی سلسلہ میں ویانا کی طرف بھیجے جانے والے شامی مخالف جماعتوں کے وفد نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں روس کے اندر ہونے والے سوچی کانفرنس میں شرکت کرنے کے سلسلہ میں فیصلہ لینے کو ہے لیکن یہ فیصلہ ویانا اجلاس میں کیے جانے والے معاہدہ کی بنیاد پر ہوگا۔(۔۔۔)

اسی درمیان ذرائع نے اعلان کیا کہ دمشق کے غوطہ میں مکمل طور پر فائربندی کے سلسلہ میں روس اور مخالف جماعتوں کے مابین ایک معاہدہ ہوا ہے۔

ہفتہ – 10 جمادی الاول 1440 ہجری – 27 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14305)