یمن میں گولٹ کی شادی اور المناک کی انتہاء
غربت اور آزادی کی کمی کی وجہ سے سماج میں یہ بیماری عام ہے صنعاء: اصيل سارية فاطمہ پانچ سال سے اس پریشانی سے دوچار ہے کہ نہ تو وہ شادی شدہ ہے اور نہ وہ طلاق شدہ ہے اور یہ اس وقت سے ہے جب سے اس کے شوہر نے […]
غربت اور آزادی کی کمی کی وجہ سے سماج میں یہ بیماری عام ہے

صنعاء: اصيل سارية
فاطمہ پانچ سال سے اس پریشانی سے دوچار ہے کہ نہ تو وہ شادی شدہ ہے اور نہ وہ طلاق شدہ ہے اور یہ اس وقت سے ہے جب سے اس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہے اور اپنے تین بیٹوں اور دو بچیوں کو اپنے ساتھ لے گیا ہے اور اس نے یہ اقدام اس وجہ سے کیا ہے کہ فاطمہ کے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا ہے اور فاطمہ کو بائس سال قبل ایک ایسے شخص سے شادی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا جسے وہ نہیں جانتی تھی اور وہ اس وقت انیس سال کی تھی اور اس کے بھائی نے فاطمہ کے شوہر کی بہن سے شادی کی تھی اور اسی کو عام عرف میں گولٹ کی شادی کہا جاتا ہے۔(۔۔۔)
گولٹ کی شادی یہ ایسی پریشانی ہے جو یمنی سماج کے اندر بہت عام ہو چکی ہے اور یہ پریشانی فقر وفاقہ، جہالت کی زیادتی اور نوجوانوں کو آزادی نہ ملنے کی وجہ سے ہو رہی ہے اور میدانی طور پر پانچ ماہ کے اندر پچاس جوڑے ایسے ہیں جن میں 38 مرد اور 12 خواتین ہیں اور ان کا تعلق یمن کے 22 گورنریٹ میں پانچ سے ہے میدانی طور پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ 94 فیصد گولٹ کی شادی ناکام ہو کر ختم ہو گئی ہے۔(۔۔۔)
جمعہ – 30 جمادی الاول 1440 ہجری – 16 فروری 2018ء شمارہ نمبر: (14325)