عباس بین الاقوامی امن کانفرنس کا مطالبہ کر رہے ہیں
واشنگٹن آنے والے مراحل میں دوسرے ممالک کے ساتھ شراکت کو خارج از امکان نہیں جانتا "اگر یہ مفید ہو” نیویارک: علی بردی – رام اللہ: کفاح زبون فلسطینی صدر محمود عباس نے کل سلامتی کونسل میں ایک غیر معمولی خطاب کے دوران فلسطینی امن منصوبے کی تجویز دیتے ہوئے اقوام […]
واشنگٹن آنے والے مراحل میں دوسرے ممالک کے ساتھ شراکت کو خارج از امکان نہیں جانتا "اگر یہ مفید ہو”

نیویارک: علی بردی – رام اللہ: کفاح زبون
فلسطینی صدر محمود عباس نے کل سلامتی کونسل میں ایک غیر معمولی خطاب کے دوران فلسطینی امن منصوبے کی تجویز دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے ایک مکمل "ریاست” اور بین الاقوامی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
عباس رواں سال کے وسط میں امن کے لئے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ رکھتے ہیں، جو بین الاقوامی کثیر جہتی اقدامات کے علاوہ کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد کے لئے مخصوص حد اور ضمانت کے ساتھ اختتام پذیر ہو۔ عباس نے فلسطینی ریاست اور اسرائیلی ریاست کو 1967 کی سرحدوں کے مطابق باہم تسلیم کرنے سے مشروط کیا ہے۔ اسی طرح امریکی صدر کی جانب سے قدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلہ کو منجمد کرنے اور مذاکرات کے دوران یک طرفہ کاروائیوں کو روکنے کی تجویز دی ہے۔
واشنگٹن نے عباس کے مطالبات پر جواب دیتے ہوئے بیان دیا ہے کہ "اگر وہ اسے فائدہ مند سمجھتا ہے” تو دیگر ممالک کے ساتھ اس لائحہ عمل کا جائزہ لے گا۔ (۔۔۔)