غوطہ میں "نسل کشی” کو روکنے کے لئے بین الاقوامی دباؤ
ماسکو کا "مغربی دھمکی” کی تنقید اور انقرہ عفرین کے سلسلہ میں حکومت کے ساتھ "انٹیلی جنس رابطہ” کا اعتراف ماسكو: رائد جبر بيروت: يوسف دياب انقرة: سعيد عبد الرازق نيويارك: علي بردى کل شام کی انتظامیہ فورسز نے دمشق کے غوطہ علاقہ پر غیر معمولی حملہ کیا ہے جس […]
ماسکو کا "مغربی دھمکی” کی تنقید اور انقرہ عفرین کے سلسلہ میں حکومت کے ساتھ "انٹیلی جنس رابطہ” کا اعتراف

ماسكو: رائد جبر بيروت: يوسف دياب انقرة: سعيد عبد الرازق نيويارك: علي بردى
کل شام کی انتظامیہ فورسز نے دمشق کے غوطہ علاقہ پر غیر معمولی حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے 300 شہری شہید ہوئے ہیں جن میں 71 بچے بھی شامل ہیں اور اس حادثہ کی وجہ سے 48 گھنٹہ کے دوران ووٹ دینے کی امید میں سویڈن اور کویت کے اس قرارداد کے سلسلہ میں سلامتی کونسل کے اعضاء کے درمیان رابطہ شروع ہو گیا جس میں ایک ماہ کے لیے فائر بندی نافذ کرکے شام کے لاکھوں ضرورت مندوں کو انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دینے کی بات کہی گئی ہے۔(۔۔۔)
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر شہزادہ زید ابن رعد الحسین نے مشرقی غوطہ میں محصور شہریوں کے خلاف اس وحشیانہ نسل کشی حملہ کی مذت کی ہے۔(۔۔۔) اسی طرح روس کے نائب وزیر خارجہ سیرگی ریابکوف نے غوطہ میں انسانی صورتحال کے ساتھ واضح انداز میں تعامل اور صورتحال کی سنگینی کی تنقید کیا ہے۔(۔۔۔)
اسی سلسلہ میں ترکی صدارت کے ترجمان ابراہیم کالین نے پرزور انداز میں کہا کہ عفرین کی کاروائی اسی طاقت وقوت کے ساتھ آگے جاری رہے گی۔(۔۔۔) انہوں نے کہا کہ شامی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست ہمارا رابطہ نہیں ہے لیکن ہمارا انٹیلیجنس ادارہ براہ راست یا بالواسطہ استثنائی صورتحال میں مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ قائم کر سکتا ہے اور یہ اس ادارہ کے کام کے ضمن میں ہوگا۔
جمعرات – 06 جمادی الاول 1440 ہجری – 22 فروری 2018ء شمارہ نمبر: (14331)