کیا شام، روس کے لئے دوسرا افغانستان ہے؟
مشاری الذایدی کیا روس شامی دلدل میں پھنس چکا ہے اور مٹی کے نیچے سے اپنے خوفناک تیز دھاری ناخنوں سے خون بہانا شروع کر دیا ہے؟ روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ لاذقیہ کے قریب حمیمیم ایئر بیس پر روسی ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر […]
مشاری الذایدی
کیا روس شامی دلدل میں پھنس چکا ہے اور مٹی کے نیچے سے اپنے خوفناک تیز دھاری ناخنوں سے خون بہانا شروع کر دیا ہے؟
روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ لاذقیہ کے قریب حمیمیم ایئر بیس پر روسی ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق اس "حادثہ” میں عملے کے 6 افراد سمیت اس میں سوار 26 افراد یعنی روسی افواج کے تقریبا 32 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
روس کے مطابق ٹرانسپورٹ طیارے کا یہ "حادثہ” کوئی براہ راست "حملے” کے نتیجے میں نہیں ہے، جو شامی سرزمین پر یا اس کی فضاء میں مزید روسی نقصانات کو یاد دلائے۔ (۔۔۔)
یہ بات قبل از وقت ہوگی اگر کہا جائے کہ ہم ایک اور روسی افغانستان کے منظر کی جانب جا رہے ہیں، یہ جنگ 1979 میں افغانستان میں سرخ سوویتی فوج کی لڑائی کے دس سال تک جاری رہی۔ اس جنگ جے ضمن میں اکثر مسلم اور مغربی ممالک شامل رہے اور روس یہاں سے زبردست نقصان اٹھا کر نکلا۔ اس جنگ کے دوران تقریبا 15 ہزار ہلاکتیں، ہزارہا زخمی اور نفسیاتی متاثرین کے علاوہ اربوں کے سازوسامان کا نقصان شامل ہے ۔۔۔۔۔ روسی ریچھ کی ہیبت۔
روسی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ حمیمیم ایئر بیس پر گر گیا یا گرایا گیا، یہ علاقہ لاذقیہ کے قریب اسد کے خاندان کا پناہ گاہ ہے۔ اس حادثہ سے شام میں روس کی چھوٹی چھپی راہوں کا انکشاف ہوا ہے۔ جبکہ شام اس وقت جنگی سپہ سالاروں کے خانوں میں منقسم ہے اور ہر ایک بین الاقوامی یا علاقائی یا پھر بیرونی گروہوں یعنی روایتی جرائم کے گروہوں کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ روس سانپوں کی آماجگاہ ان تاریک دلدلی گڑہوں سے کیسے بچ پائے گا؟
ابتداء میں روس کا شام میں داخل ہونا ایک اشتعال انگیزی اور غصے و انتقام کی کاروائی تھی۔۔۔ اور تشدد پسندی بھی۔
فوجی دستوں کا داخلہ سیاست داںوں کی طاقت ہے اور جو ہوا بوتا ہے اسے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔