ٹیلرسن کی معزولی، ٹرمپ کا ایک واضح پیغام
مشاری الذایدی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ گذشتہ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے تنقید کی اور کہا کہ وہ؛ یعنی صدر، اکیلے ہی امریکی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے ہیں، یاد رہے کہ "میں ہی مالک ہوں”۔ کئی ماہ سے جس کا انتظار […]
مشاری الذایدی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ گذشتہ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے تنقید کی اور کہا کہ وہ؛ یعنی صدر، اکیلے ہی امریکی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے ہیں، یاد رہے کہ "میں ہی مالک ہوں”۔
کئی ماہ سے جس کا انتظار تھا اب وہ ہوگیا ہے اور وہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی برطرفی ہے اور اب وہ تیل اور گیس کا "بزنس” کریں گے۔ جبکہ وہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے بالکل اتفاق نہیں کرتے تھے اور ان کی وہاں موجودگی بھی ایک عجیب بات تھی۔ خاص طور پر جبکہ ٹرمپ خارجہ پالیسی میں گہری تبدیلی لاتے ہیں، جیسا کہ ان کا شمالی کوریا کے ساتھ جاری تاریخی ایٹمی بحران کے حل کے لئے اس کے صدر کے ساتھ سربراہی اجلاس کے انعقاد کا عزم رکھنا ہے۔
ٹیلرسن ایران کے بارے میں ٹرمپ کے ارادے اور قطر کی "نقصان دہ” سیاسی پالیسی پر سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین پر مشتمل چار عرب ممالک کے موقف پر ٹرمپ کی تائید پر "مزاحمت” کر رہے تھے؛ اگرچہ یہ دھیمے انداز میں تھی۔ دریں اثنا ٹیلرسن قطری بیانات کی جاجن زیادہ مائل تھے، (۔۔۔)، اور قطر پر سے "حصار” کو اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ (۔۔۔)
جبکہ نئے وزیر خارجہ مایک بومبیو؛ جو کہ کانگریس کے سابقہ رکن اور ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون کےشعبہ میں فارغ التحصیل ہیں اور امریکی فوج میں ایک آفسر ہیں، ان کی 1991 میں کویت کی آزادی کی جنگ میں خدمات ہیں، وہ ٹرمپ کے ساتھ "ہمیشہ سے موافق” ہیں، جیسا کہ "رویٹرز” کی رپورٹ میں آیا ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس (سی آئی اے) کے سربراہ بومبیو کے بعد امریکی انٹیلی جنس کی پرانی اہلکار اور ڈپٹی سربراہ جینا ہاسپیل نے ان کی جگہ سنبھال لی ہے۔۔۔ یہ 1985 سے اس ایجنسی میں خواتین کی شمولیت کے بعد پہلی بار ایسا ہے کہ سی آئی اے کی سربراہی یہ خاتون کر رہی ہیں، اور جیسا کہ ان کے بارے میں شائع ہوا ہے وہ تنظیم القاعدہ کے خلاف جنگ میں ماہر ہیں، (۔۔۔)۔
ٹیلرسن کی واپسی سے ان کے لئے دشواری ہے جو ٹرمپ کے ادارے کے اندر ایران پر دباؤ میں کمی لانے اور قطر اخوان ناول کی ترویج کے لئے آواز بلند کروا رہے تھے۔ جبکہ درحقیقت ٹیلرسن ان کی توقعات کو مسترد بھی کر سکتے تھے۔
ٹرمپ کی ایک سال اور چند مہینوں کی صدارتی مدت کے گزرنے پر امریکی صدر کی انتظامیہ میں ایک کے بعد ایک چیز واضح ہوتی جا رہی ہے، اور یہ آواز گنگناتی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ ہم اپنے عرب مسائل پر اس کا اثر دیکھنے کے منتظر ہیں ۔۔۔ اور شاید اس سے بھی زیادہ۔