پہلا صفحہ

عراقی پارلیمنٹ کے اتحاد کی وجہ سے بڑی جماعت کی جنگ شروع

بغداد: حمزہ مصطفی کل نئے عراقی پارلمنٹ نے سرکاری طور ہر بڑی جماعت کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کی وجہ سے دو اتحادی کے درمیان اختلافات رونما ہو چکے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک بڑی جماعت تشکیل دینا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے یہ […]

عراقی پارلیمنٹ کے اتحاد کی وجہ سے بڑی جماعت کی جنگ شروع

بغداد: حمزہ مصطفی

کل نئے عراقی پارلمنٹ نے سرکاری طور ہر بڑی جماعت کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کی وجہ سے دو اتحادی کے درمیان اختلافات رونما ہو چکے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک بڑی جماعت تشکیل دینا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے یہ معلومات بھی مل رہی ہیں کہ اب اس کا فیصلہ اتحادی عدالت کرے گی اور اس معاملہ کی وجہ سے بڑی جماعت تشکیل کرنے کے سلسلہ میں پھر مزید وقت کی ضرورت ہوگی۔

مقتدی الصدر کی طرف سے مدد کردہ سائرون پر مشتمل اصلاح اور تعمیر نامی اتحاد حیدر العبادی کی قیادت میں نصر نامی جماعت عمار الحکیم کی قیادت میں الحکمہ نامی جماعت ایاد علاوی کی قیادت میں الوطنیہ نامی جماعت اسامی نجیفی کی قیادت میں قرار نامی جماعت نے 177 ارکان پارلیمنٹ ہر مشتمل بڑی جماعت بنانے کے سلسلہ دیگر جماعتوں کی دستخط کے ساتھ درخواست پیش کی ہے اور ان کے مقابلہ میں ہادی العامری کی قیادت میں فتح نامی جماعت اور نوری المالکی کی قیادت میں دولة قانون نامی جماعت پر مشتمل تعمیر نامی اتحاد نے 153 اراکین کی دستخط کے ساتھ اسی طرح کی ایک درخواست پیش کی ہے۔(۔۔۔)

منگل – 24 ذی الحجہ 1439 ہجری – 04 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14525)