پہلا صفحہ

آج سعودی عرب میں خادم حرمین کی طرف سے وزارت داخلہ اور خارجہ پالیسی کے نشانات کی تعیین

ریاض: عبد اللہ آل ہیضہ آج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے شورائی کمیٹی کے ساتویں مرحلہ کے تیسرے سال کے کاموں کا آغاز کریں گے اور اس مناسبت سے ایک تقریر بھی کریں گے جس میں وہ ملک کی وزارت خارجہ اور داخلہ کی پالیسی کے نشانات […]

آج سعودی عرب میں خادم حرمین کی طرف سے وزارت داخلہ اور خارجہ پالیسی کے نشانات کی تعیین

ریاض: عبد اللہ آل ہیضہ

آج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے شورائی کمیٹی کے ساتویں مرحلہ کے تیسرے سال کے کاموں کا آغاز کریں گے اور اس مناسبت سے ایک تقریر بھی کریں گے جس میں وہ ملک کی وزارت خارجہ اور داخلہ کی پالیسی کے نشانات کی تعیین کریں گے۔

شوری کمیٹی کے صدر الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ ابن آل الشیخ نے شوری کمیٹی میں خادم حرمین شریفین کی حاضری اور اپنی سالانہ اس گفتگو کی مناسبت سے اپنی سعادت مندی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کمیٹی کے 14 دفعہ کے مطابق وزارت داخلہ او خارجہ کی پالیسیوں کا ذکر کیا ہے اور آل الشیخ نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم شوری کمیٹی میں شاہی تقریر کو اپنے کاموں کے لئے نمونہ بنائیں گے کیونکہ اس میں ہمارے کے اگلے رہنماء کی رائے شامل ہے۔

شوری کمیٹی کے صدر نے بعض ممالک کی طرف سے متعین مسائل کو بڑا کرکے پیش کرنے اور انہیں اپنے مفادات کے سلسلہ میں استعمال کرنے کی کوششوں پر نقد کیا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان ممالک کی طرف یہ ج کوششیں ہو رہی ہیں ان کی نگاہیں ممالک کے درمیان ان قوانین پر نہیں ہیں جو ممالک کی خود مختاری ان کے نظام اور ان کے داخلی قوانین کی رعایت کرتے ہیں اور انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ سعودی عرب علاقائی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر امن واستقرار کو باقی رکھنے میں کامیاب رہے گا۔

آل الشیخ نے سنہ 2030 کی اس ویزن کی طرف اشارہ کیا جس کی قیادت ولی عہد شہزادہ محمد ابن سلمان کر رہے ہیں اور انہوں نے پرزور انداز میں یہ بھی کہا کہ یہ ویزن اپنے ایسے مناسب وقت پر آیا ہے جس میں سعودی اقتصاد کو اس کی ضرورت ہے اور یہ نوجوان شہریوں کی امیدوں کو پورا کرے گا۔

پیر 11 ربیع الاول 1440 ہجری – 19 نومبر 2018ء – شمارہ نمبر [14501]