ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے یمن میں اتحاد کی مدد کرنے کی یقین دہانی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا تعاون کرے گا اور اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ امریکہ کا نکلنا معاملہ کو مزید سنگین کر دے گا۔ اس انتظامیہ […]

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا تعاون کرے گا اور اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ امریکہ کا نکلنا معاملہ کو مزید سنگین کر دے گا۔
اس انتظامیہ نے کیبینیٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اس حکم پر اعتراض کرنے کا اشارہ کیا ہے جس میں یمن کے اندر قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ساتھ امریکہ کی شرکت کو روکنے کی بات ہوگی اور اسی وقت وزیر خارجہ مائک پومپیو اور وزیر دفاع جیمس ماٹیس نے کل یمن کے سلسلہ میں ہونے والے بند اجلاس میں کیبینیٹ کے سامنے اس کی گواہی دی۔
پومپیو نے کہا کہ امریکہ کی علیحگی کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران طاقت ور ہو اور داعش سرگرم ہو اور اس سے جنگ کی مدت طویل ہوگی اور مزید شہریوں کا قتل ہوگا اور دہشت گرد جماعتوں کو پرامن جگہیں مل جائیں گی اور اس کے علاوہ ریڈ سمندر میں امریکی کشتیوں اور تیل کے ٹینکروں کے لئے خطرات پیدا ہوں گے اور انہوں نے پرزور انداز میں یہ کہا کہ سعودی عرب کشمکش سے پر مشرق وسطی کے علاقہ میں امن واستقرار قائم کرنے کے سلسلہ میں مؤثر اور طاقت ور ہے اور وہ عراق کے اندر امن واستقرار کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور اس نے شام کے پناہ گزینوں کی بھی مدد کیا ہے۔
بند اجلاس کے مکمل ہونے کے بعد پومپیو نے کانگریس کے اراکین کے سامنے واضح کیا کہ اگلے ماہ سویڈن میں گفتگو کرنے کے لئے یمن کے تمام فریقوں کو جمع کرنے کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کے سفیر مارٹن گریفتھ کی کوششوں کو طاقت بہم پہنچانا بہت اہم ہے اور ان کی یہ کوششیں یمن میں داخلی جنگ ختم کرکے ایک جنگ بندی معاہدہ کرنے کے لئے ہے۔
پومپیو نے واضح کیا کہ ایران جزیرہ عرب میں لبنانی حزب اللہ کا ایک دوسری کاپی کرنا چاہتا ہے تاکہ تہران کے شیعہ علماء باب المندب گذرگاہ کے اسٹریٹیجک مانی گذرگاہ کے ذریعہ سمندری تجارت پر قابو پا سکیں اور انہوں نے اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ اس مقصد میں ایران کی کامیابی کی وجہ سے عالم اور ریاستہائے متحدہ کے لئے برا ہوگا اور پومپیو نے دوسری طرف یہ کہا کہ کوئی ایسی براہ راست معلومات نہیں ہیں جن کا تعلق سعودی عرب کے ولی عہد اور جمال خاشقجی کے قتل کے حکم کے درمیان ہو۔
اسی سلسلہ میں ماٹیس نے یمن کے اندر ریاستہائے متحدہ کے کردار کا دفاع کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط شراکت کی اہمیت پر زور دیا ہے اور خاشقجی کے قتل کے پیش نظر اپنائے جانے والے موقف کے سلسلہ میں کیبینیٹ کے اراکین کی طرف سے کئے جانے والے مطالبات کے بارے میں ماٹیس نے کہا کہ یمن میں شرکت کرنے کے سلسلہ میں ووٹ دینے کا وقت مناسب نہیں ہے۔
جمعرات 21 ربیع الاول 1440 ہجری – 29 نومبر 2018ء – شمارہ نمبر [14511]