سوڈان میں معاملہ سنگین اور فوس اس بحران کے سامنے
خرطوم: "الشرق الاوسط” سوڈان کے کئی شہروں میں چوتھے دن بھی روٹی کا غضبناک مظاہرہ مسلسل جاری رہا اور یہ مظاہرہ عوامی بھیر کی شکل لے کر ملک کے 28 شہروں میں وسیع پیمانہ پر پھیل چکا ہے اور امہ نامی مخالف پارٹی جے ذرائع کے مطابق مہلوکین کی تعداد 22 […]

خرطوم: "الشرق الاوسط”
سوڈان کے کئی شہروں میں چوتھے دن بھی روٹی کا غضبناک مظاہرہ مسلسل جاری رہا اور یہ مظاہرہ عوامی بھیر کی شکل لے کر ملک کے 28 شہروں میں وسیع پیمانہ پر پھیل چکا ہے اور امہ نامی مخالف پارٹی جے ذرائع کے مطابق مہلوکین کی تعداد 22 ہو چکی ہے جبکہ حکومت نے روٹی اور ایندھن کے سلسلہ میں ہونے والے بحران کا اعتراف کر لیا ہے اور زندہ بخش سہولتوں اور علاقوں کی حمایت کرنے کے سلسلہ میں فوج کو سرکاری اوامر دے دئے گئے ہیں۔
پانچ صوبوں نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے اور یہ صوبے شمالیہ نہر نیل قضارف شمال کردفان سفید نیل نامی صوبے ہیں اور اس کے علاوہ چند شہر ہیں جہاں ایمرجنسی کا اعلان جلد ہی ہوا ہے۔
شمال میں بربر نامی علاقہ جنوب میں ابابا نامی جزیرہ کے اندر مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ پہلے صرف خرطوم ابیض نہود میں تھا لیکن کردفان کے شمال مین الرہد شہر کی عوام کے مظاہرے سخت تھے اور انہوں نے نصف دن سے قبل شہر کے سرکاری چند مرکزوں کو جلا بھی دیا۔
صدر عمر بشیر نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں ان کے دونوں نائب، انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ سب مسئلہ کو ھل کرنے کے لئے موجود تھے اور حکومت نے کل ایک اتحاد کی طرف سے منعقدہ اجلاس کے دوران مخالف جماعت کے 14 قیدیوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سر فہرست عرب وکیل اتحاد کے پچاسی سالہ سابق صدر اور اتحاد کے صدر فاروق ابو عیسی ہیں اور مکالف جماعت کے رہنماء الصادق المہدی نے بین الاقوامی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ حکومت نے بے ہتھیار عوام کا مقابکہ کرنے کے لئے بے جا طاقت وقوت کا استعمال کیا ہے۔(۔۔۔)
اتوار 15 ربیع الثانی 1440 ہجری – 23 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14635]