پہلا صفحہ
فوج کی طرف سے بشیر کی معزولی اور حکومت کی حفاظت
خرطوم: احمد یونس ۔ لندن: مصطفی سری چار ماہ سے مسلسل ہونے والے عوامی مظاہرے کے دباؤ میں آکر کل سوڈانی فوج نے صدر عمر بشیر کو معزول کر کے ان کو گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور حکومت کی بھی حفاظت کی ہے اور ایک انتقالی فوجی کمیٹی […]

خرطوم: احمد یونس ۔ لندن: مصطفی سری
چار ماہ سے مسلسل ہونے والے عوامی مظاہرے کے دباؤ میں آکر کل سوڈانی فوج نے صدر عمر بشیر کو معزول کر کے ان کو گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور حکومت کی بھی حفاظت کی ہے اور ایک انتقالی فوجی کمیٹی بنائی ہے جو ملک کی ذمہ داری دو سال تک کے لئے اپنے ہاتھ میں رکھے گی لیکن سڑک کی عوام اور اپوزیشن نے فوج کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے اور حکومت شہریوں کے حوالہ کرنے کی تاکید کی ہے۔(۔۔۔)
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ وہ اس انتقالی مرحلہ کے اختتام پر آزاد اور صاف وشفاف انتخاب کرانے، سیاسی پارٹیاں بنانے اور ملک کے لئے ایک دائمی دستور بنانے تک حکومت کے لئے پرامن انتقال کا ماحول تیار کرے گی اور پھر فوج نے طاقت کے ذریعہ دھربا ختم کرنے کی بھی دھمکی دے دی ہے۔
بین الاقوامی ردود فعل کے طور پر ریاستہائے متحدہ اور پانچ یورپین ممالک نے سوڈان کے اندر صورتحال کا مذاکرہ کرنے کے لئے بین الاقوامی سیکورٹی کمیٹی کی بند کمرے میں ایک اجلاس منعقد کیا ہے اور واشنگٹن نے شہری سوسائٹی کے اداروں کے لئے اس انتقالی مرحلہ کے لئے شرکت کرنے کی اجازت دئے جانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایک جمہوری نظام بن سکے۔(۔۔۔)
جمعہ 07 شعبان المعظم 1440 ہجری – 12 اپریل 2019ء – شمارہ نمبر [14746]