پہلا صفحہ

خرطوم میں ایک خون ریز دن اور عوامی غصہ کے بعد ہر چیز درہم برہم

خرطوم: محمد امین یاسین ۔ لندن: مصطفی سری کل کا دن خرطوم کا خونریز دن اس وقت بن گیا جب فوجی ہیڈکواٹر کے سامنے دھرنہ کے خلاف سیکیورٹی فورسز حرکت میں آکر اس دھرنہ کو قوت سے ختم کیا اور اس کاروائی کی وجہ سے دسیوں افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد زخمی […]

خرطوم میں ایک خون ریز دن اور عوامی غصہ کے بعد ہر چیز درہم برہم

خرطوم: محمد امین یاسین ۔ لندن: مصطفی سری

کل کا دن خرطوم کا خونریز دن اس وقت بن گیا جب فوجی ہیڈکواٹر کے سامنے دھرنہ کے خلاف سیکیورٹی فورسز حرکت میں آکر اس دھرنہ کو قوت سے ختم کیا اور اس کاروائی کی وجہ سے دسیوں افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور جو کچھ ہوا اس کے سلسلہ میں انتقالی فوجی کمیٹی کی طرف سے اپنے افسوس کا اظہار کرنے کے باوجود اس تحریک کی روح رواں آزادی اور تبدیلی کے رہنماؤں نے سول حکومت کا مطالبہ کیا اور فوجی کمیٹی کے ساتھ مذاکرہ کو مسترد کیا اور اسی طرح عوامی ناراضگی نے دار الحکومت کے ہر کام کو درہم برہم کرنے کا اعلان کیا۔

فوجی کمیٹی کے ترجمان کرنل شمس الدین کباشی نے کہا کہ دھرنہ کے میدان میں اس فوجی کاروائی کے ذریعہ قانون سے نکلنے والے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسی وقت اس بات کی بھی نفی کی کہ اس نے خرطوم کے اندر طاقت کے ذریعہ دھرنہ کو ختم کرنے کے سلسلہ میں قدام کیا ہو اور اس بات کی بھی تاکید کی کہ وہ ملک اور شہریوں کی امن وسلامتی کا خواہاں ہے۔(۔۔۔)

منگل 30 رمضان المبارک 1440 ہجری – 04 جون 2019ء – شمارہ نمبر [14798]