عدن میں ایک خونریز دن اور قانونی حکومت کی طرف سے ایران پر الزام
عدن: علی ربیع کل یمن کی وقتی دار الحکومت عدن میں ہونے والے دو حملوں کے بعد خونریز دن کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور ان دو حملوں میں بیلسٹک میزائیل اور ڈرون جہاز کے ذریعہ الجلاء نامی فوجی اڈہ کو ایک طرف نشابہ بنایا گیا ہے تو دوسری طرف شہر کے […]

عدن: علی ربیع
کل یمن کی وقتی دار الحکومت عدن میں ہونے والے دو حملوں کے بعد خونریز دن کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور ان دو حملوں میں بیلسٹک میزائیل اور ڈرون جہاز کے ذریعہ الجلاء نامی فوجی اڈہ کو ایک طرف نشابہ بنایا گیا ہے تو دوسری طرف شہر کے شمال میں واقع الشیخ عثمان کے علاقہ کے پولیس اسٹیشن کو کار دھماکہ کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے اور ان دو حملوں میں 49 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں اور یہ معلومات پہلی سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہیں۔
فوجی اڈہ پر ہونے والے حملہ کی ذمہ داری حوثی میلیشیاؤں نے لی ہے اور اس حملہ میں 36 آفیسر اور فوج ہلاک ہوئے ہیں جن میں سرفہرست سیکیورٹی بیلٹ کے ممتاز رہنماء اور پہلے بریگیڈ سپورٹ اور انتساب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل منیر الیافعی ہیں جبکہ متعینہ گروہ کی طرف سے پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملہ میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس حملہ میں دہشت گرد جماعتوں کی علامتیں ملی ہیں۔
یمنی حکومت کے صدر ڈاکٹر معین عبد الملک نے ایران پر جماعت اور تنظیم کے درمیان معاہدہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور انہوں نے اپنے ٹویٹر پر لکھا کہ دار الحکومت عدن کی امن وسلامتی کو دہشت گرد جماعتوں اور حوثی باغیوں کے رہنماؤں کی طرف سے نشانہ بنایا جانا اس بات کی تصدیق ہے کہ واضح طور پر ایرانی انتظامیہ کے تحت یہ کام انجام دیا گیا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 01 ذی الحجہ 1440 ہجری – 02 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14857]