روک تھام سیکورٹی حوثی کی خفیہ ٹیم

صالح کی ہلاکت کے ذمہ داری کے الزامات صنعاء: "الشرق الاوسط” حوثی رہنماؤں نے تین ہزار اہلکار کے ذریعہ ایک خفیہ سیکورٹی ادارہ قائم کیا ہے جس کی چند سرگرمیاں ہیں اور اس کا تعلق روک تھام سیکورٹی نام سے براہ راست اس سرکش جماعت کے صدر عبد الملک الحوثی سے […]

روک تھام سیکورٹی حوثی کی خفیہ ٹیم
صالح کی ہلاکت کے ذمہ داری کے الزامات

صنعاء: "الشرق الاوسط”

حوثی رہنماؤں نے تین ہزار اہلکار کے ذریعہ ایک خفیہ سیکورٹی ادارہ قائم کیا ہے جس کی چند سرگرمیاں ہیں اور اس کا تعلق روک تھام سیکورٹی نام سے براہ راست اس سرکش جماعت کے صدر عبد الملک الحوثی سے ہے۔

"الشرق الاوسط” نے جن افسران سے گفتگو کی ہے انہوں نے ترجیحی انداز میں کہا ہے کہ حوثیوں نے سابق صدر علی عبد اللہ صالح کو ہلاک کرنے میں اسی سیکورٹی ادارہ سے مدد حاصل کیا ہے۔(۔۔۔) اور اس ادارہ میں معلومات کے ماہرین، تجزیہ کرنے، گھات میں رہنے اور ٹیلی کام کے انجینئر تدریب یافتہ اس فوجی یونٹ میں خاص مشن انجام دینے کے لیے شامل ہیں اور ان کا کام حملہ کرنا، قتل کرنا اور بم وغیرہ بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی انٹیلیجنس کے اہلکار اور حزب اللہ کے اہلکار نے جغرافیائی طور پر صنعاء اور اس جماعت کے ماتحت تمام گورنریٹ میں پھیلنے سے قبل اس خفیہ طاقت کو تدریب دینے میں شرکت کیا ہے۔

اتوار– 05 ربيع الثانی 1439 ہجری – 24 دسمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14270)