سعد الحریری

سعد الحریری اور "صوفی کی دنیا”

  مشاری الذایدی لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نوجوان طلباء کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کرتے اور ان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ظاہر ہوئے، جبکہ نوجوان طلباء کے سوالات صحافتی "پیچیدہ” سوالات سے زیادہ جرأت مندانہ، انوکھے اور یاد دہانی پر مبنی ہوتے ہیں۔ […]

مشاری الذایدی

لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نوجوان طلباء کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کرتے اور ان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ظاہر ہوئے، جبکہ نوجوان طلباء کے سوالات صحافتی "پیچیدہ” سوالات سے زیادہ جرأت مندانہ، انوکھے اور یاد دہانی پر مبنی ہوتے ہیں۔

وہ لبنان کے ٹی وی چینل mtv میں (دق الجرس) نامی غیر ملکی پروگرام کے لبنانی ایڈیشن کی پہلی قسط میں شریک ہوئے اور اس میں شریک بچوں کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان ہوتی ہیں جو عوامی شخصیت سے ملتے ہیں اور ان سے سوالات پوچھتے ہیں۔

ایک گھنٹہ سے زائد تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں بچوں اور بچیوں نے ان سے ان کی عراقی والدہ، قریب ترین مرحوم بھائی حسام اور ان والد رفیق حریری کے بارے میں ذاتی سوالات کئے، جبکہ ان کے والد پر قاتلانہ حملے کے حادثے کو دس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں مگر اب بھی وہ لبنان کے پس منظر میں موجود ہیں اور وہ اب بھی اس پر رو رہے ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب؛ جس کی شہریت ان کے پاس ہے، اس سے تعلقات اور لبنان جو کہ ان کی اصل ہے اس کے بارے میں اور پھر والد کے قتل کئے جانے کے بعد سیاسیت کی دنیا میں کیسے داخل ہوئے۔

طلباء کی جانب سے پوچھے گئے سوالات میں سب سے دلچسپ سوال ایک 10 سالہ بچی (لیا قصاب) نے کیا کہ: "کیا آپ کے پاس ایک منٹ ہے کہ آپ ہمیں سنی اور شیعہ میں فرق واضح کر سکیں؟”۔

"لبنانی وزیر اعظم” نے اس "بنیادی” سوال کا جواب کچھ ایسے دیا کہ : "سنی اور شیعہ میں کوئی فرق نہیں” اور وضاحت کرنے کی کوشش کرتے چاک کے ساتھ بلیک بورڈ پر لکھا "میرے نزدیک ۔۔۔۔ سیاسی اختلاف ہے”۔

حقیقت یہ ہے کہ سب سے مشکل سوال بچوں کے ہوتے ہیں کیونکہ وہ عام معاشرے کے فریم میں ابھی تک "فٹ” نہیں کئے گئے ہوتے، چنانچہ ان کے لئے تمام امور پر سوال کرنا اور ان کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا ممکن ہے۔

ہمیں ہمیشہ میگزین "الاسرہ” (خاندان) میں مشورے مل جاتے ہیں کہ بچوں کے تنگ کر دینے والے سوالات سے ماں کیسے نمٹ سکتی ہے۔ فلسفی کی نظر میں بچوں کے سوالات ایک خاص سیکشن ہے اور ان کے گھر والوں کے لئے ایک دلچسپ کہانی، جبکہ اصل فلسفی وہ ہے جو مسلسل بچوں کے رعب کا سامنا کرے۔ (۔۔۔)

ناروے کے ناول نگار جوستاین گارڈر کا ایک ناول (صوفی کی دنیا) جو کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا، جس میں مرکزی کردار تمام تر بچپنے اور فلسفے کے ساتھ ہے۔ اس ناول میں صوفی نامی ایک بچی کو ابتدائی بچپن میں انسان اور کائنات کے بارے میں مسلسل سوالات پر تعجب کا سامنا رہتا ہے۔

لبنان کے سیاستدانوں میں کون بہادر ہے جو پروگرام میں آ کر کے بچوں کے سوالات کا سامنا کرے سوائے سعد الحریری کے، اگرچہ وہ جو کہتے ہیں ۔۔۔ یا جو وہ نہیں کہتے اس میں سیاسی معیار کے کسی پہلو کو بالکل نہیں چھوڑتے۔

بدھ – 12 جمادى الآخر 1439 ہجری – 28 فروری 2018ء  شمارہ: [14337]