"صدی کے کیس” میں حسنی مبارک کی حتمی بریت
قاہرہ: وليد عبد الرحمن کل مصر کی سیشن کورٹ نے سابق صدر حسنی مبارک کو 25 جنوری 2011 کے انقلاب کے دوران مظاہرین کو قتل کرنے کے مقدمہ؛ جو کہ میڈیا میں صدی کے کیس” کے نام سے مشہور ہے، اس میں بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس مقدمے پر پردہ ڈالنے […]

قاہرہ: وليد عبد الرحمن
کل مصر کی سیشن کورٹ نے سابق صدر حسنی مبارک کو 25 جنوری 2011 کے انقلاب کے دوران مظاہرین کو قتل کرنے کے مقدمہ؛ جو کہ میڈیا میں صدی کے کیس” کے نام سے مشہور ہے، اس میں بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس مقدمے پر پردہ ڈالنے کے لئے ہے جو کہ مصری اور عالمی رائے عامہ کا مرکز بنا ہوا تھا، جبکہ یہ فیصلہ حتمی اور ناقابل اپیل ہے۔
کل سینٹرل قاہرہ میں واقع ہائی کورٹ سے باہر مشرقی قاہرہ میں واقع پولیس اکیڈمی میں پہلی بار اس مقدمہ کی سماعت کی گئی۔ جبکہ اس دوران مصر کی گلیوں میں اداسی چھائی رہی، جو کہ اس سے زیادہ اہم مسائل کے سبب سے ہے، جن میں سرفہرست مہنگائی، زندگی کا دباؤ اور ملک میں عدم استحکام کا شکار سلامتی کی صورت حال ہے۔
اس سے قبل قاہرہ کی کریمنل کورٹ نے مبارک اور سابق وزیر داخلہ حبیب العادلی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور العادلی کے 6 معاون افراد کو جون 2012 میں بری کر دیا گیا تھا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جسے سیشن کورٹ نے جنوری 2013 میں منسوخ کر کے نئے سرے سے ٹرائل کا فیصلہ کیا تھا۔