پیٹ کا موٹاپا، دل کی بیماری اور ذیابیطس کی ابتدا
جسمانی وزن کے اضافے میں جینیاتی تبدیلی کے کردار پر تحقیق رياض: ڈاکٹرعبير مبارک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایریزونا یونیورسٹی کے محققین کا ماننا ہے کہ پیٹ کا موٹاپا سب سے زیادہ خطرناک ہے جو کہ مختلف بیماریوں اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محقیقین [&helli
جسمانی وزن کے اضافے میں جینیاتی تبدیلی کے کردار پر تحقیق

رياض: ڈاکٹرعبير مبارک
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایریزونا یونیورسٹی کے محققین کا ماننا ہے کہ پیٹ کا موٹاپا سب سے زیادہ خطرناک ہے جو کہ مختلف بیماریوں اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محقیقین کا کہنا ہے کہ صرف وزن میں اضافے کے باعث پیٹ کے موٹاپے سے تعلق رکھنے والے جینز دل کی بیماریوں کا کافی حد تک باعث بن سکتے ہیں۔
"ہارورڈ” کی سابقہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 48 جینیاتی تبدیلیوں کا تعلق کمر اور کولہے کے حصہ سے ہے، پھر 40 لاکھ سے زائد بالغ افراد کے جینیاتی خطرے کی نسبت پر تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صرف ایک فیصد افراد ایسے ہیں جن کی کمر اور کولہے کے حصے میں معیاری انحراف ہے، یعنی دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرہ کی شرح 46 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، جبکہ ذیابطیس کی بیماری کا خطرہ 77 فیصد ہو جاتا ہے۔ ایک تحقیقاتی مصنف ڈاکٹر کونر ایمڈن نے کہا کہ "سب سے پہلے پیٹ کا موٹاپا آتا ہے پھر اس کے بعد دل کی بیماری اور ذیابیطس کی بیماریاں آتی ہیں، جن پر غذائی خوراک اور جسمانی ورزش کے علاوہ صحت مند رہنے کے دیگر طرز عمل پر نظر ثانی کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے”۔