شام میں "داعش” پر اردن کا حملہ
الرقہ محاصرے کے تیسرے مرحلے کا آغاز بيروت: بولا اسطيح اردن کی فوج نے کل اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ رائل ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے جنوبی شام میں تنظیم داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بمباری انتہا پسند تنظیم کی طرف […]
الرقہ محاصرے کے تیسرے مرحلے کا آغاز

بيروت: بولا اسطيح
اردن کی فوج نے کل اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ رائل ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے جنوبی شام میں تنظیم داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بمباری انتہا پسند تنظیم کی طرف سے اردن کے پائلٹ "معاذ الکساسبہ” کو جلا کر ہلاک کرنے کی دوسری برسی کے موقع پر کی گئی۔
دوسری جانب، کل کرد اکثریتی "شامی جمہوری افواج” نے "غضب فرات” کے تیسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا، جس کا مقصد تنظیم داعش سے شمالی شام کے شہر الرقہ کے ساتھ ساتھ اس کے مشرقی ومغربی دیہی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یاد رہے کہ شام میں انتہا پسند تنظیم کے مرکزی ٹھکانے پر نئی امریکی حکومت کی طرف سے حملے کے آغاز اور تقریبا مکمل شہر کی ناکہ بندی کے منصوبے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
"واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ حکومت الرقہ شہر کے بارے میں اپنے پیشرو باراک اوباما کے منصوبے کو نہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کردوں کی مسلسل حمایت کرنا پڑتی تھی اور 7 ماہ تک اس منصوبہ پر کام کرنے کے باوجود اس میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں۔