شمالی موصل میں عراقی دراندازی
بغداد، موصل: "الشرق الا وسط” 17 اکتوبر 2016 کو شروع ہونے والی داعش کے چنگل سے موصل کو آزاد کرانے کی مہم میں کل اور پرسو دو اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ پہلا اقدام یہ ہے کہ شہر کے شمال میں عراقی فورسز داخل ہو چکی ہے اور دوسرا اقدام یہ […]

بغداد، موصل: "الشرق الا وسط”
17 اکتوبر 2016 کو شروع ہونے والی داعش کے چنگل سے موصل کو آزاد کرانے کی مہم میں کل اور پرسو دو اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ پہلا اقدام یہ ہے کہ شہر کے شمال میں عراقی فورسز داخل ہو چکی ہے اور دوسرا اقدام یہ ہے کہ رات کے وقت حملہ کرکے شہر کے دائیں جانب کے ایک گاؤں کو واپس لے لیا گیا ہے۔
"آرہے ہیں نینوی” نامی آپریشن کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبد الامیر رشید یار اللہ نے ایک بیان میں پر وزر انداز میں کہا کہ موصل کے بائیں جانب شمال میں واقع ” شقق الحدباء” نامی علاقہ پر عراقی فورسز کا کنٹرول ہو گیا ہے اور وہاں کی عمارتوں پر عراقی پرچم لہراد یا گیا ہے۔
اس سلسلہ میں عراقی انسداد دہشت گردی تنظیم کے ایک ترجمان صباح نعمان نے کل اعلان کیا کہ انسداد دہشت گردی فورسز نے گزشتہ رات حملہ کرکے "داعش” کو "المثنی” نامی علاقہ میں اس وقت جا پکڑا جب وہ بائیں جانب میں دریا دجلہ کی ایک شاخ کو پار کر رہے تھے۔
دوسری طرف اس بات کی توقع ہے کہ ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم آج عراق کا سرکاری دورہ کریں گے۔ وہ پہلے بغداد پھر اربیل کی زیارت کریں گے اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ گزشتہ سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان ہوئی کشیدگی کو ختم کرکے تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔