ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں میں کمی
عراقی شہری اور گرین کارڈ ہولڈر مستثنی واشنگٹن: ہبہ القدسی کل وائٹ ہاؤس نے سفری پابندی سے متعلق ایک ترمیم شدہ فیصلے کا انکشاف کیا، جس میں مسلم اکثریتی 6 ممالک کے شہریوں کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لیکن انٹری ویزا اور رہائشی […]
عراقی شہری اور گرین کارڈ ہولڈر مستثنی

واشنگٹن: ہبہ القدسی
کل وائٹ ہاؤس نے سفری پابندی سے متعلق ایک ترمیم شدہ فیصلے کا انکشاف کیا، جس میں مسلم اکثریتی 6 ممالک کے شہریوں کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لیکن انٹری ویزا اور رہائشی اجازت نامے (گرین کارڈ) ہولڈرز کو چھوٹ دے دی گئی ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے "ترمیم شدہ” ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اس کے مطابق سوڈان، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے مسافرین پر 90 روزہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ "داعش” کے خلاف عراقی کردار کو دیکھتے ہوئے امریکی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے دباؤ کے تحت نئے فیصلے میں عراق کو پابندی عائد کئے گئے 7 ممالک کی لسٹ سے مستثنی قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے شہریوں پر پابندی عائد کئے گئے ممالک کی فہرست سے عراق کو نکالے جانے پر عراق نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے صحیح سمت میں "اہم قدم” قرار دیا ہے۔
اس نئے فیصلے پر عمل درآمد ماہ راوں کی 16 تاریخ سے شروع ہوگا۔ اس فیصلے میں معینہ اداروں کو دس روزہ نوٹس دیا گیا ہے تاکہ وہ اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو سمجھیں۔ جیسا کہ گذشتہ فیصلے پر بین الاقوامی ایئر پورٹس پر دیکھنے میں آیا اس افراتفری، انتشار اور قانونی تنازعات سے بچتے ہوئے اسے لاگو کیا جائے۔
ٹرمپ کی حکومت میں خارجہ امور، انصاف اور قومی سلامتی کے وزراء نے اس نئے حکم نامے کا خیر مقدم کیا۔ جبکہ ڈیمو کریٹک سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر کا کہنا ہے کہ نئے ایگزیکٹو آرڈر کو بھی اسی طرح کے چیلنجوں کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ "اگرچہ اس آرڈر میں کمی کر دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ (ایگزیکٹو آرڈر) پابندی ہے جو ہمیں کم محفوظ بناتا ہے”۔