ٹویٹر” صدر اور ان کے مخالفین کا ہتھیار”

واشنگٹن ­ لندن: "الشرق الاوسط” ڈونالڈ ٹرمپ اپنے ناقدوں پر حملہ کرنے اور اپنے سیاسی افکار ورجحانات کے اعلان کے لئے ٹویٹر کا استعمال کرتے تھے تو ان مخالفین نے بھی اسی اسٹیج سے ان کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان لوگوں نے ٹرمپ کی طرف سے میڈیا […]

ٹویٹر” صدر اور ان کے مخالفین کا ہتھیار”
2

واشنگٹن ­ لندن: "الشرق الاوسط”

ڈونالڈ ٹرمپ اپنے ناقدوں پر حملہ کرنے اور اپنے سیاسی افکار ورجحانات کے اعلان کے لئے ٹویٹر کا استعمال کرتے تھے تو ان مخالفین نے بھی اسی اسٹیج سے ان کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان لوگوں نے ٹرمپ کی طرف سے میڈیا اور انٹلیجنس کو اپنے قبضہ میں کرنے کی وجہ سے ان کی انتظامیہ کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا ہے۔

اس تحریک کا آغاز امریکی سرکاری اکاؤنٹس اور ویبسائٹوں سے صدر کے شرمناک بیانات کے ہٹا لینے کے بعد ہوا ہے اور بعض لوگوں نے ٹویٹر پر اپنے متبادل ناموں کا استعمال کیا ہے اور انہوں نے حریت رائے کی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو وفاقی حکومت کا کارندہ سمجھا ہے اور یہ مزاحمت دھیرے دھیرے ایک تحریک میں بدل گئی ہے۔

فرانسیسی پریس ایجنسی کی طرف سے یہ خبر ملی ہے کہ قومی پارک ایجنسی نے سرکشی کی پہلی بیجیں بکھیر دی ہے لیکن اسے اپنے ویب سائٹ پر تصویریں نشر کرنے کی وجہ نئی انتظامیہ کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان تصویروں میں آٹھ سال قبل سابق صدر براک اوباما کی حلف برداری کے پروگرام کو دیکھنے کے لئے حاضر ہونے والے لوگوں اور ٹرمپ کی حلف برداری کے پروگرام کو دیکھنے کےلئے حاضر ہونے والے لوگوں کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے۔

ان بیانوں کو حذف کرنے کے بعد قومی پارک ایجنسی کے نام سے دوسرے بیانات صادر ہوئے جن میں ایک رپورٹ تھی کہ اس ایجنسی کا ذمہ دار ایجنسی کا سابق کارندہ ہے جو موسمی تبدیلی کا مطالعہ کرنے کے لئے لنکس فراہم کرتا ہے اور جب ان لنکس کو ختم کر دیا گیا تو ٹویٹر پر پارک ایجنسی کے نام سے دوسرا اکاؤنٹ ظاہر ہوا اور چند دنوں میں ہی 2.1  ملین لوگوں نے اسے پسند کیا۔