ٹرمپ کے وعدوں کی تکمیل اور سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کا داخلہ ممنوع

واشنگٹن ­ لندن: "الشرق الاوسط” پرسو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکہ میں سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کے داخلہ پر گئی پابندی کی وجہ سے سفر کے سلسلہ میں افرا تفری مچی ہوئی ہے اور اسی طرح قانونی مقدموں اور بین الاقوامی تنقیدوں کا سامنا ہے۔ […]

ٹرمپ کے وعدوں کی تکمیل اور سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کا داخلہ ممنوع
1

واشنگٹن ­ لندن: "الشرق الاوسط”

پرسو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکہ میں سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کے داخلہ پر گئی پابندی کی وجہ سے سفر کے سلسلہ میں افرا تفری مچی ہوئی ہے اور اسی طرح قانونی مقدموں اور بین الاقوامی تنقیدوں کا سامنا ہے۔

ٹرمپ نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پناہ گزینوں کے داخلہ کی اجازت کو چار مہینوں کے لئے معلق کر دیا ہے اور شام، عراق، یمن، سوڈان، لیبیا، صومالیہ اور ایران سے آنے والے لوگوں کی زیارت کو وقتی طور پر منع کر دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس لائحہ عمل کے ذریعہ دہشت گردانہ حملوں سے امریکہ کے باشندوں کی حفاظت کرنے میں مدد ملے گی۔

روئٹر ایجنسی نے بتایا ہے کہ نیو یارک میں نقل مکانی کے مسائل کے امریکی وکیلوں نے اس قانوں کو پاس نہ کئے جانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلہ کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کو غیر قانونی طور پر امریکی ایئر پورٹ پر روک لیا گیا ہے۔

اس انتظامی حکم کی وجہ سے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے مسافروں کے درمیان غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کی وجہ سے لیا گیا ہے اور ان مسافروں نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ایک انوکھا اور ذلت آمیز ہے ۔

اسی طرح اس فیصلہ کی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ہمنوا مغرب، امریکہ کی عربی جماعتوں اور حقوق انسان کی تنظیموں کی طرف سے زبردست تنقید کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں فرانس کے صدر فرنسو ہولانڈ نے امریکہ کی ان کاروائیوں اور خاص طور پر یورپ یونین کے سلسلہ میں ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے اور ایک پرعزم یورپی جواب کی دعوت دی ہے۔