2030 آتے ہی 60ملین بچے تعلیم گاہوں سے محروم

قاہرہ: دالیا عاصم ادلب کے علاقہ میں روزانہ کی موت سے فرار ہو کر مصر میں اپنے باقی ماندہ فیملی کے ساتھ استقرار کی کیفیت حاصل کرنے کے بعد دس سالہ معصوم بچی کے یہ وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اپنی والدہ کی بیماری، ان کے کام نہ […]

2030 آتے ہی 60ملین بچے تعلیم گاہوں سے محروم

قاہرہ: دالیا عاصم

ادلب کے علاقہ میں روزانہ کی موت سے فرار ہو کر مصر میں اپنے باقی ماندہ فیملی کے ساتھ استقرار کی کیفیت حاصل کرنے کے بعد دس سالہ معصوم بچی کے یہ وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اپنی والدہ کی بیماری، ان کے کام نہ کرنے اور ضرورت سے زیادہ پیسے فراہم نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہو جائے گی۔۔۔۔۔ میں سوچتی تھی کہ میں شہید ہونے والے اپنے دوستوں کی حالت کو ترجیح دوں اور میں ابھی خوش ہوں کہ میں ابھی مصر کے ایک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں اور یہ اسکول میرے اس اسکول کا متبادل ہے جسے منہدم کر کے مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے لیکن میری فیملی میرے بڑے بھائیوں کو تعلیم دلانے کو ترجیح دے رہی ہے کیونکہ وہ اپنی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہیں اور وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتے ہیں تاکہ ہم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں۔

عمر کی والدہ ایک شامی خاتون ہیں اور ریف دمشق کی جنگ سے بھاگتے وقت ان کے ذہن ودماغ میں بھی نہ تھا کہ چاروں بچوں کو تعلیم دلانے کا ان کا خواب زندگی میں پیش آمدہ تنگیوں اور مشکلات کی وجہ سے پارہ پارہ ہو جائے گا کیونکہ ابھی مصر کے اندر کھانے پینے کے اخراجات بہت زیاہ بڑھ چکے ہیں اور مہنگائی بھی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے فلیٹ میں رہتی ہیں جس کا کرایا ایک ہزار مصری پاؤنڈ ہے اور اچھے انداز سے اپنے بچوں کے کھانے پینے کے اخراجات کے لئے تقریبا تین ہزار کی آمدنی کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے چھوٹے پانچ سال کے بچہ کو اپنی گود میں لئے ہوئے کہتی ہیں کہ مصری حکومت ہماری مدد کر رہی ہے وہ ہمارے ساتھ پناہ گزیں کی طرح معاملہ نہیں کر رہی ہے لیکن میں ابھی تک اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات کا انتظام نہیں کر پارہی ہوں۔ اسی وجہ سے میرا بڑا فرزند یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور ہو گیا جہاں وہ فارمیسی کا کورس کر رہا تھا اور اب وہ اخراجات کے لئے ایک کپڑے کی دکان میں کام کر رہا ہے۔

پیر– 8 ذی القعدة 1438 ہجری – 31 جولائی 2017ء شمارہ نمبر: (14125)