عبد الکریم الخلیل اور ان کی سیاسی تحریک
لندن: "الشرق الاوسط” دوست یوسف خازم کی ایک کتاب بیروت دار الفارابی مکتبہ سے شائع ہوئی ہے جس کا نام "عبد الکریم الخلیل۔۔۔ مشعل العرب الاول 1884-1915″ ہے یعنی عرب کا پہلا مشعل عبد الکریم الخلیل 1884-1915)) اور یہ کتاب بارہ فصلوں اور فل سائز کے 344 صفحات پر مشتمل ہے [&hell

لندن: "الشرق الاوسط”
دوست یوسف خازم کی ایک کتاب بیروت دار الفارابی مکتبہ سے شائع ہوئی ہے جس کا نام "عبد الکریم الخلیل۔۔۔ مشعل العرب الاول 1884-1915″ ہے یعنی عرب کا پہلا مشعل عبد الکریم الخلیل 1884-1915)) اور یہ کتاب بارہ فصلوں اور فل سائز کے 344 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے علاوہ اس کتاب میں ضمیمے بھی ہیں۔
جیسا کہ اس کتاب کے مقدمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں موصوف کے سلسلہ میں ایسی معلومات ہیں جو پہلی مرتبہ نشر کی گئیں ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ موصوف نے انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے شروع دنوں میں عرب قوم کے اندر ہونے والی بیداری میں اہم رول ادا کیا ہے اور انہوں نے سنہ 1905ء استنبول کے اندر ایک خفیہ عرب تنظیم بنائی جس کا مقصد عرب ملکوں کو عثمانی سلطنت سے جدا کر کے ایک مستقل عرب حکومت بنانے کے لئے فوجی اور سیاسی خدمت انجام دینا ہے اور موصوف کی سرگرمی شام سے لے کر عراق، نجد، حجاز اور یمن جیسے ہر ملک میں تھی کیونکہ وہ وہاں کے رہنماؤں اور معزز افراد سے رابطہ میں تھے۔
اس کتاب میں جن مصادر ومراجع سے استفادہ کیا گیا ہے وہ 11 ہیں اور ان تمام مصادر ومراجع کے لکھنے والے پہلی عرب کانفرنس یا اس کے بعد ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوئے ہیں جیسے کہ سلیم علی سلام، جمال پاشا اور اسعد داغر ہیں اور ان کے علاوہ دوسرے افراد بھی ہیں جو اس وقت تک زندہ تھے اور ان میں چند مؤرخین بھی ہیں جیسے کہ ساطع الحصری، محمد رشید رضا، یوسف ابراہیم ازبک اور امین سعید ہیں۔
صاحب کتاب کہتے ہیں کہ کسی مؤرخ کے لئے عرب تحریک چلانے، قوم وملت کے افراد کو بلند کرنے اور ان کے درمیان قومی بیداری پیدا کرنے کے سلسلہ میں عبد الکریم کے نمایاں کردار کے تمام حقائق کو جمع کرنا مشکل ہے اور معلومات کی کمی کی وجہ سے خازم کے سامنے بس یہی ایک راستہ تھا کہ وہ الخلیل اور ان کی سیاسی تحریک کے سلسلہ میں معلومات جمع کریں اور تحقیق کرنے کے بعد ایک دقیق علمی منہج کے مطابق اسے نشر کریں۔
جمعرات– 19 شوال 1438 ہجری – 13 جولائی 2017ء شمارہ نمبر: (14107)